Wednesday, March 11, 2026
 

کاش ہم بھی غریب ہوتے

 



آج کل ہمیں اپنے آپ پرسخت غصہ آرہا ہے کہ لوگ دنیا میں کیاکیا نہیں کرتے کیاکیا بن نہیں جاتے ، کہاں سے کہاں پہنچ نہیں جاتے اورایک ہم نالائق ، نکمے نکھٹو، کہ خود کو غریب یا مستحق نہ بنا سکے۔ ان لبوں نے نہ کی مسیحائی ہم نے سوسو طرح سے مر دیکھا آپ سوچیں گے کہ لوگ تو ’’غربت‘‘ سے ڈرتے ہیں دور بھاگتے ہیں اورتم غربت کے تمنائی ہو، اسے حاصل کرنا چاہتے ہو ،گلے لگانا چاہتے ہو، اپنے نام کا حصہ بنانا چاہتے ہو اوراس کے لیے ہروقت ترستے رہتے ہو، لو جناب عالی ۔ آپ نے غربت کا مزا چکھا ہی نہیں ۔ ہائے کم بخت تم نے پی ہی نہیں ، یہ اپنا پاکستان ہے جو آئینے کے اندر ہے یہاں سب کچھ الٹا ہوتا ہے یہاں جو ہوتا ہے وہ دکھتا نہیں اورجو دکھتا ہے وہ ہوتا نہیں مثلاً ساری دنیا میں ہوتا یوں ہے بلکہ تاریخ میں بھی ہوتا رہا ہے کہ ہرکام کی ابتدا نیچے یعنی گراس روٹ لیول سے ہوتی ہے لیکن یہاں ہر کام اوپر سے شروع ہوتا ہے ۔ دوسرے ملکوں میں لوگ امیروں کی خدمت کرتے ہیں اوریہاں سارے ’’امیر ‘‘ غریب کی خدمت میں لگے ہوتے ہیں بلکہ اتنے زیادہ لگے ہوئے ہیں کہ منابھائی ہو رہے ہیں، ایک دوسرے کو دھکے دے دے کر غریب کی خدمت میں سبقت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں بلکہ بعد از مرگ بھی چاہتے ہیں کہ ان کا کام جاری رہے سنا ہے باپ نے بیٹے کو یہ وصیت کی کہ میرے بعد بھی یہ میرا کاروبار چلے اوربیٹے اتنے سعادت مند ہوتے ہیں کہ باپ سے بھی آگے بڑھ جاتے ہیں مثلاً محترمہ بے نظیر کو لے لیجیے، خود بھی عمربھر غریبوں کی خدمت میں مصروف رہیں اوراپنے بعد بھی اپنی جائیداد سے غریبوں کی خدمت کررہی ہیں اوربے نظیر انکم سپورٹ کاصدقہ جاریہ رواں دواں ہے ۔مطلب یہ کہ سارے عیش تو غریبوں کے ہیں طرح طرح کے کارڈ ، بھکاری خانے ،عشروزکواۃ، للسائل والمحروم، رمضان دسترخوان ، لنگرخانے ، صورت حال یہ ہے کہ جہاں کوئی غریب دکھائی دیتا ہے تو لوگ سب کو چھوڑچھاڑ کرجھپٹ پڑتے ہیں اورغریب ۔  اس حسن کاشیوہ ہے جب عشق نظر آئے  پردے میں چلے جانا شرمائے ہوئے رہنا  بخداآج کل تو یہ سوچ سوچ کر خود پر غصہ آجاتا ہے کہ اتنی عمر میں ہم سے یہ بھی نہیں ہوپایا کہ خود کو غربت کے اعلیٰ منصب پر فائز کرتے یاکراتے ، کیسے کیسے لوگ آئے اوراچھے خاصے غریب بن گئے اورہم ؟  کارواں گزراکیا ہم رہگزر دیکھاکیے  ہرقدم پر نقش پائے راہبر دیکھاکیے راہبر پر یادآیا ، ایک مرتبہ ہم نے ایک راہبر سے بھی رجوع کیا کہ وہ کوئی ایسا اپائے بتائے جس سے ہم اپنی منزل غربت پرپہنچ جائیں۔ اس نے جو اپائے بتایا ہم اس کے مطابق اپنے حلقے کے ایم پی اے کے پاس پہنچ گئے اورسند غربت ایشو کرنے کی درخواست کی ، ظاہرہے کہ اسے یہ تاثر دیناتھا کہ ہم تمہارے ووٹر تھے ووٹر ہیں اور ووٹر رہیں گے اس لیے تھوڑا ساجھوٹ بولنا پڑا وہ مہربان ہوئے اورٹیلی فون کھینچ کر ہمیں سند غربت عطاکرنے والے تھے کہ اس کاچمچہ خاص آکر اس کے کان میں کچھ پھونکنے لگا ، اس نے سنا تو پرایاسا منہ لے کر بولے ، ووٹ تو تم نے فلاں کو ڈالا ہے جاؤ اس کے پاس ، ہم سے کیالینے آگئے، چشم زدن میں اس کاچہرہ اتنا پرایا سا ہوگیا کہ ہم اپناسامنہ لے کر نکل آئے ہرقدم پر ادھر مڑ کے دیکھا اس کی محفل سے ہم اٹھ تو آئے  حالانکہ ہم نے معافی بھی مانگی کہ اس مرتبہ غلطی سے ووٹ کسی اورکو دیا ہے آیندہ ہمارا تو کیا ہماری آنے والی سات پشتوں کے ووٹ بھی آپ کے ۔ لیکن وہ ہمیں سند غربت عطا کرنے پر راضی نہیں ہوئے ۔ یہ نہ تھی ہماری قسمت برسماع راست ہرکسی چیرنیست طعمہ ہرمرغکے انجیر نیست  اورآج کل تو یہ احساس بہت شدت سے ہورہا ہے کیوں کہ مرکزی اورصوبائی حکومتوں میں غریبوں کو ’’نوازنے‘‘ کی باقاعدہ ریس لگی ہوئی ہے، لنگر خانے ہی لنگر خانے چل رہے ہیں اورغریب بس جی بھر کر چررہے ہیں ، کم ازکم اخباروں اوربیانوں میں تو یہی آرہا ہے ،اگر کچھ کمی تھی تو وہ سرکاری دسترخوان نے پوری کردی جب سے ہم نیسرکاری دسترخوان کا نام سنا ہے روپڑنے کو جی چاہ رہا ہے ۔ پہلے سے دسترخوان کیا کم تھے کہ اوپر سے یہ نیا دسترخوان بھی بچھ گیا ، کبھی ہم اپنی افطاری کرتے ہوئے رمضان دسترخوان کاتصورکرتے ہیں تو آنسو بھر آتے ہیں ، ہائے وہ کیا کیا نہ ہڑپ رہے ہوں گے  لوگ لے آتے ہیں کعبے سے ہزاروں تحفے  ہم سے اک بت بھی نہ لایا گیا بت خانے سے  جی چاہتا ہے کہ باہرنکل پڑیں اورجہاں بھی کوئی سرکاری غریب نظر آئے اسے گولی ماریں۔ اوپر سے بیانات ، اب یہ تو یاد نہیں کہ کس کا بیان تھا کیوں کہ آج کل وزیر مشیر تو کیاسرکاری افسربھی بیان پر اتر آئے ہیں، چیف سیکریٹری بلکہ سیکریٹریوں کے سیکریٹری بھی روزانہ باتصویر بیان دینے لگے ہیں۔ اس لیے اب یاد نہیں کہ وہ بیان کس کاتھا جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت نے عزم کررکھا ہے کہ کوئی غریب بھوکا نہیں سوئے گا اوریہ بالکل سچ ہے ۔ ہمارا اپنا تجربہ ہے کئی بار ہم نے بھوکا سونے کی کوشش کی ہے لیکن مجال ہے کہ سوئے ہوں، نیند کو منتیںسماجتیں کرکے بلاتے رہے لیکن وہ دور ہی دور رہی شاید ڈرتی تھی کہ بھوکا ہے کہیں مجھے ہی نہ ہڑپ کرلے ۔ ایک منظر یاد آیا ، بمبئی یا ممبائی میں سمندر کے اندر ایک مزارہے حاجی علی بابا، سمندر کے اندر ہی کوئی ایک کلومیٹر کا راستہ ہے جس کے کنارے دنیا جہاں کے بھکاری بڑے بڑے پتھروں پر رہائش پذیر ہوتے ہیں ، مزار کے پاس پکی پکائی دیگیں ملتی ہیں ، مالدار لوگ آتے ہیں دیگ خریدتے ہیں لیکن خود تو مصروف لوگ ہوتے ہیں، ان دیگوں والوں سے کہہ دیتے ہیں کہ ان بھکاریوں میں تقسیم کر دینا۔ ایساکوئی ایک تو نہیں ہوتا ، خیرات کرنے والوں کاتانتا بندھا رہتا ہے ، دیگیں خریدی جاتی ہیں بانٹی جاتی ہیں چنانچہ وہ کنارے کے پتھر نشین بھکاری دن بھر چاولوں میں اتناکھیلتے ہیں کہ پتھروں کے گرد بھی چاولوں کے ڈھیر لگے رہتے ہیں، کوئی آخر کتناکھائے گا۔ یقیناً اپنے ہاں بھی آج کل غریبوں کی یہی صورت حال ہے ۔ ویسے ہمیں بعد میں پتہ چلا کہ کنارے کے وہ ’’پتھر‘‘ ہزاروں روپے میں بیچے اورخریدے جاتے ہیں ۔ جن پر ڈیرے لگتے ہیں ۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل