Loading
مجھے یہ تو نہیں معلوم کہ جب گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کیوں کرتا ہے مگر تاریخ پڑھنے سے اتنا ضرور پتہ چلا ہے کہ جب کسی ہوس زدہ ذہنیت کی حامل ریاست کے برے دن آتے ہیں تو وہ ایک پنگے سے ابھی باہر نہیں نکلتی کہ ایک اور مہنگا والا خرید لیتی ہے۔ اسرائیل کا بھی یہی معاملہ ہے۔غزہ سے ہاتھ نہیں بھرے اور جنوبی شام اور لبنان میں گھس گیا اور اب اپنے منہ کے سائز سے بھی دوگنا ایرانی نوالہ حلق میں پھنسا لیا ہے۔امریکا کا تو ایرانی جنگ میں دو ارب ڈالر روزانہ کا خرچہ ہو رہا ہے جو وہ وینزویلا کا تیل بیچ کر پورا کر لے گا۔جنگ طول پکڑتی ہے تو اسرائیل کیا کرے گا جس سے اب تک غزہ کی نسل کشی کا خرچہ بھی نہیں سنبھالا جا رہا۔
مہنگائی اس قدر ہو چکی ہے کہ ان دنوں نسل کشی بھی آسان نہیں رہی۔چنانچہ اگر کسی ملک کو کسی ہمسائے کی نسل کشی کے لیے دو برس میں پچھتر ہزار سے ایک لاکھ لوگ اسلحے اور محاصرے سے مارنے ہوں ، مزید دو لاکھ زخمی یا اپاہج کرنے ہوں اور تمام شہری و زرعی املاک کو صفحہِ ہستی سے بھی مٹانا ہو تو کتنا پیسہ اور وسائل صرف ہوں گے ؟
بینک آف اسرائیل کا کہنا ہے کہ اب تک اسرائیل غزہ کی مہم جوئی پر ایک سو بارہ بلین ڈالر خرچ کر چکا ہے۔اس میں سے ستتر بلین ڈالر جنگ پر خرچ ہوئے اور ساڑھے دس ارب ڈالر ان شہریوں کی املاک کو ٹیکس سے مستثنٰی کرنے پر صرف ہوئے ہیں جنہوں نے بطور ریزرو اپنے روزمرہ کاموں سے چھٹی لے کر غزہ میں ’’ خدمات‘‘ انجام دی ہیں۔ دفاع سے جڑی سویلین مدوں میں اٹھارہ ارب ڈالر لگے ہیں جب کہ جنگی اخراجات کے لیے جو قرضہ لیا گیا اس پر اب تک چھ ارب ڈالر سود ادا کیا گیا ہے۔
عسکری معیشت کے امور سے متعلق اسرائیلی وزارتِ دفاع کے مشیر جل پنچاس کا اندازہ ہے کہ اسرائیل جیب سے اس جنگ پر فروری دو ہزار پچیس تک اڑتالیس ارب ڈالر خرچ کر چکا تھا۔ یعنی چھیانوے ملین ڈالر روزانہ۔فلسطینیوں سے متعلق اقوامِ متحدہ کے فلاحی ادارے انرا کے کمیشنر فلیپے لازارانی کے بقول روزانہ اوسطاً ایک سو فلسطینی اس عرصے میں قتل ہوئے۔
جل پنچاس کا کہنا ہے کہ غزہ پر جو اسلحہ اور گولہ بارود اس عرصے میں استعمال کرنے کے لیے مختص کیا گیا اس کی مالیت ایک سو آٹھ بلین ڈالر بنتی ہے۔اس میں سے زیادہ تر پیسہ مقامی اسلحہ ساز کمپنیوں کو ملا۔
امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کا اندازہ ہے کہ ایران سے گذشتہ برس جون میں بارہ دن کی لڑائی میں اسرائیل کو دو ارب ڈالر روزانہ صرف کرنے پڑے۔جب کہ دوران ِ جنگ کئی دن ایسے بھی آئے جب خرچہ چار ارب ڈالر روزانہ تک پہنچ گیا کیونکہ ایرانی حملے کے لیے جو ہمہ اقسام میزائیل شکن میزائیل استعمال کیے گئے ان میں سے ہر ایک کی لاگت سات سے چالیس لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔ ستمبر دو ہزار چوبیس میں حزب اللہ کے خلاف بھر پور جنگ کے آغاز سے پہلے اسرائیل نے حزب اللہ اور لبنانی شہریوں کے زیراستعمال تقریباً چودہ ہزار پیجرز تباہ کیے۔اس مہم پر تین سو اٹھارہ ملین ڈالر کا خرچہ آیا۔
اسرائیل کی باقاعدہ فوج ایک لاکھ ستر ہزار ہے اور اسے چار لاکھ پینسٹھ ہزار ریزرو فوجیوں کی معاونت بھی حاصل ہے۔( اسرائیل میں چالیس برس تک کی عمر کے ہر زن و مرد کو دو سے تین برس لازمی فوجی خدمت انجام دینا پڑتی ہے )۔ تین لاکھ ریزرو فوجیوں کو پہلے سال کے دوران غزہ میں تعینات کیا گیا۔ گذشتہ سوا دو برس میں ان ریزرو فوجیوں پر ساڑھے بائیس ارب ڈالر اور باقاعدہ فوج پر دو ہزار پچیس کے پہلے دس ماہ میں پانچ ارب ڈالر صرف ہوئے۔
بینک آف اسرائیل کا اندازہ ہے کہ ایک ریزرو فوجی پر اس کے اصل کام کے پیداواری گھنٹے ضایع ہونے کی لاگت سمیت ایک ماہ میں بارہ ہزار ایک سو ڈالر کا خرچہ ہے۔ ایران پر تازہ حملے سے قبل اسرائیل کے سرکردہ لبرل اخبار ہاریتز کا تبصرہ تھا کہ مہم جویانہ اخراجات دن بدن اتنے بڑھ گئے ہیں کہ آیندہ اسرائیل کو ایک نئی جنگ چھیڑ کر اسے مختصر وقت میں نمٹانے کے لیے کم ازکم ایک سو ساٹھ ارب ڈالر کا بجٹ مختص کرنا ہو گا۔
امریکا کی براؤن یونیورسٹی کی جنگی لاگت سے متعلق رپورٹ کے مطابق امریکا نے سات اکتوبر دو ہزار تئیس تا دسمبر دو ہزار پچیس اسرائیل کو بائیس ارب ڈالر کی اضافی فوجی امداد فراہم کی۔جب کہ اسرائیل کی محبت میں امریکا نے اس عرصے میں یمن اور ایران سمیت متعدد علاقائی ممالک میں جو عسکری کارروائیاں کیں ان پر مجموعی لاگت کا اندازہ تیرہ ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔یعنی اگر اسرائیل کو براہِ راست فوجی امداد اور اسرائیل کی خاطر اکتوبر دو ہزار تئیس سے اب تک کی امریکی دفاعی کارروائیوں کا مجموعی خرچہ دیکھا جائے تو امریکی ٹیکس دھندگان کی کم ازکم چونتیس ارب ڈالر کی کمائی ان لاحاصل جنگوں میں جھونک دی گئی۔
اتنے پیسے لگا کر اسرائیل اور امریکا نے جس طرح غزہ کے انفراسٹرکچر کو حرفِ غلط سمجھ کے مٹایا ہے۔اس کی تعمیرِ نو پر اقوامِ متحدہ کے تخمینوں کے مطابق کم از کم ستر ارب ڈالر کی لاگت آئے گی۔ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں جو عمارتی ڈھانچے بظاہر اب بھی کھڑے ہیں۔ان کی اندرونی چوٹیں اس قدر شدید ہیں کہ شائد ہی کوئی ڈھانچہ ایسا ہو جسے گرا کر دوبارہ تعمیر نہ کرنا پڑے۔
تب تک غزہ کی پوری آبادی ( تئیس لاکھ ) کو کثیر سمتی روزمرہ شدید انسانی مصائب سے گذرنا پڑے گا۔ان مصائب میں صاف پانی کی عدم دستیابی ، تعلیمی سہولتوں کا فقدان ، نقل و حرکت کا محدود ہونا ، اس کے نتیجے میں کم از کم پچاس فیصد بے روزگاری اور تین چوتھائی کنبوں کی بے گھری اور ناکافی غذائیت جیسے بنیادی مسائل شامل ہیں۔اب تو ایران سے جنگ کے سبب میڈیا کے تھوڑے بہت کیمرے بھی غزہ سے ہٹ گئے ہیں۔لہذا وہاں کے انسانی مصائب کو غیر معینہ ہی سمجھئے۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کیلیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل