Loading
حکومت بلوچستان نے بلوچستان کی چاروں زبانوں بلوچی، پشتو، براہوی اور ہزارگی کی اکیڈمیزکی خود مختاری کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے مجاز اتھارٹی کی ہدایت پر حکومت بلوچستان نے اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے بلوچستان کی چار زبانوں کی اکیڈمیز میں اصلاحات کے لیے محکمہ کلچرل ٹوارزم اور آرکائیو کے سیکریٹری کی قیادت میں 21 جولائی 2026ء کو ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی قائم کی۔
اس کمیٹی کی سفارشات کو بلوچستان کی کابینہ نے منظورکیا۔ ان سفارشات کے تحت Balochistan Regional Languages Academies and Literary Society Act 2025 کی منظوری دی گئی۔ اس ایکٹ کے تحت ان اکیڈمیز کی نگرانی کے لیے ایک بورڈ قائم کیا جائے گا۔ اس بورڈ کے سربراہ وزیر تعلیم ہونگے۔ بورڈ کے وائس چیئرمین سیکریٹری اسکول ایجوکیشن ہونگے۔
اس بورڈ کے اراکین میں سیکریٹری ہائر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ، سیکریٹری فنانس اور سیکریٹری کلچرل ڈپارٹمنٹ شامل ہونگے۔ اس کے علاوہ بلوچستان یونیورسٹی کی زبانوں بلوچی، براہوی، ہزارگی اور پشتو کے ڈپارٹمنٹ کے سربراہ بھی بورڈ کے رکن ہونگے۔ اس بورڈ میں چاروں اکیڈمیز کے چیئرمینز کو بھی شامل کیا گیا۔ اس بورڈ میں ہر زبان کا ایک ایک ماہر بھی شامل ہوگا۔ اب یہ بورڈ ان اکیڈمیز کے انتظامات کے بارے میں تمام فیصلوں کا مجاز ہوگا۔ یوں چاروں زبانوں کی اکیڈمیز کی پہلے والی خود مختاری باقی نہیں رہے گی۔
بلوچستان کی سرزمین صدیوں سے لسانی اور ثقافتی تنوع کی امین رہی ہے۔ یہاں بولی جانے والی زبانیں، بلوچی، پشتو، براہوی، جدگالی اور ہزارہ کمیونٹی کی زبان صرف ابلاغ کا ذریعہ نہیں بلکہ تاریخ، شناخت اور اجتماعی شعورکی علامت ہیں۔ انھی زبانوں کے فروغ اور تحفظ کے لیے قائم ادبی و تحقیقی اداروں نے محدود وسائل کے باوجود گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ ایسے میں حکومتِ بلوچستان کی جانب سے پیش کردہ’’ بلوچستان ریجنل لینگوئجز، اکیڈمیز اینڈ لٹریری سوسائیٹیز بل 2025‘‘ نے ادبی حلقوں میں تشویش کی ایک نئی لہر دوڑا دی ہے۔
حال ہی میں کوئٹہ میں بلوچی اکیڈمی کے زیر اہتمام ادبی و لسانی اداروں کا ایک ہنگامی مشترکہ اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرمین ہیبتان عمر نے کی۔ اجلاس میں پشتو اکیڈمی، براہوی اکیڈمی اور ہزارگی اکیڈمی سمیت دیگر اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس اجتماع میں متفقہ طور پر اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ مجوزہ بل ادبی اداروں کی خود مختاری سلب کرکے انھیں محکمہ کلچر اور محکمہ اسکول ایجوکیشن کے زیرِ انتظام لانے کی کوشش ہے۔ ادبی ادارے صرف سرکاری دفاتر نہیں ہوتے، وہ فکری آزادی اور تخلیقی اظہار کے مراکز ہوتے ہیں۔ ان اداروں کی اصل قوت ان کی خود مختاری میں مضمر ہے، جو انھیں سرکاری دباؤ یا بیوروکریٹک رکاوٹوں سے آزاد رکھتی ہے۔
یہی آزادی انھیں زبانوں کی تحقیق، لغت سازی، نصابی معاونت، کلاسیکی ادب کی اشاعت اور نئی نسل کی تربیت کے لیے فعال بناتی ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ مجوزہ بل نہ صرف ادبی اداروں کی آزادانہ حیثیت کو متاثر کرے گا بلکہ 1860 کے سوسائٹی ایکٹ کی روح کے بھی منافی ہے، جس کے تحت یہ ادارے بطور خود مختار تنظیمیں کام کر رہے ہیں۔ چیئرمین پشتو اکیڈمی ڈاکٹر حافظ رحمت نیازی نے نشاندہی کی کہ پاکستان کا آئین ہر قوم کو اپنی ثقافت، زبان اور شناخت کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔
ایسے میں بغیر مشاورت کوئی قانون سازی جمہوری اقدار کے برعکس ہے۔ حکومت کا مؤقف یہ ہو سکتا ہے کہ اداروں کو سرکاری نظم و نسق میں لا کر مالی اور انتظامی شفافیت بہتر بنائی جائے گی۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ماضی کا تجربہ اس دعوے کی تائید کرتا ہے؟ محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام بلوچستان آرٹ کونسل کی غیر فعالیت اور تعلیمی شعبے کی موجودہ صورتحال اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ محض سرکاری تحویل مسائل کا حل نہیں۔ براہوی اکیڈمی کی چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر سوسن براہوی نے بجا طور پر کہا کہ جب محکمہ تعلیم اور ثقافت سالانہ اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود صوبے میں تعلیمی پسماندگی ختم نہ کر سکے تو ادبی اداروں کو سرکاری بورڈ آف گورنرز کے ماتحت کرنا ان کی کارکردگی کو مزید سست کر سکتا ہے۔
بلوچستان میں لاکھوں بچے آج بھی اسکولوں سے باہر ہیں، ایسے میں زبانوں کی ترقی کا بوجھ بھی انھی محکموں پر ڈال دینا ایک سوالیہ نشان ہے۔ بلوچستان میں زبان محض ثقافتی موضوع نہیں بلکہ سیاسی اور سماجی حساسیت بھی رکھتی ہے۔ یہاں کی زبانیں طویل عرصے تک قومی بیانیے میں حاشیے پر رہی ہیں۔ ادبی اداروں نے اسی خلا کو پُرکرنے کے لیے شبانہ روز محنت کی ہے۔
لغات کی تیاری،کلاسیکی شعرا کی تدوین، جدید ادب کی اشاعت اور نوجوان قلمکاروں کی حوصلہ افزائی، یہ سب کام بیوروکریٹک فائلوں کے بجائے فکری جذبے سے ہوتے ہیں۔ بلوچستان مسلسل بحرانوں کا شکار ہے۔ بدامنی کی صورتحال ختم ہوتی نظر نہیںآتی۔ اس وقت سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ بلوچ نوجوانوں اور ریاست کے درمیان فاصلے کم کیے جائیں۔ بلوچ طلبہ اپنے کیریئر کو بنانے کے لیے پنجاب کے تعلیمی اداروں کی طرف بھی آتے ہیں۔ بلوچ طلبہ میں کیریئر بنانے کا رجحان بلوچستان کے مخصوص حالات میں ایک دیے کی روشنی کی طرح ہے۔ اربابِ اختیار ان طلبہ کو بہتر سہولتیں فراہم کر کے امید کے اس دیے کو روشنی کے میناروں میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ادبی اداروں میں تخلیقی علم اس وقت پروان چڑھا ہے جب ادارے ریاستی کنٹرول سے آزاد ہوتے ہیں۔
ادبی اداروں کے ریاستی کنٹرول میں آنے کا مطلب تخلیقی صلاحیتوں کا محدود ہونا ہے۔ سابق صدر ایوب خان کے دورِ اقتدار میں رائٹرزگلڈ کا قیام عمل میں آیا مگر جب رائٹرز گلڈ مکمل طور پر سرکاری ہوئی تو اس ادارہ کا کردار ختم ہوگیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان اردو اور اردو ڈکشنری بورڈ وغیرہ بیوروکریسی کے کنٹرول میں آنے کے بعد ایسے حقیقی خوف سے دور ہوگئے۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ بلوچستان کے ادبی اداروں کی خود مختاری کو برقرار رکھا جائے جب کہ وفاقی اور بلوچستان کی حکومت ان اداروں کو مالیاتی امداد فراہم کرتی رہے، اگر ان اداروں کو سرکاری تحویل میں لے لیا گیا تو خدشہ ہے کہ تخلیقی سرگرمیاں روایتی سرکاری طریقہ کارکی نذر ہو جائیں گی۔ فن اور ادب کی دنیا میں حکم نامے نہیں، مکالمہ اور تخلیقیت چلتی ہے۔
سرکاری ڈھانچے میں شامل ہونے کے بعد بجٹ، تقرریوں اور پالیسیوں پر سیاسی اثر و رسوخ کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے، جو ادبی آزادی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ادیبوں کے اس مشترکہ اجلاس کے شرکاء کا بنیادی اعتراض یہی تھا کہ بل کی تیاری میں متعلقہ اداروں سے کوئی باضابطہ مشاورت نہیں کی گئی۔ ایک ایسا قانون جو براہ راست ادبی و لسانی تنظیموں کو متاثرکرے، اس کی تشکیل میں انھی اداروں کو شامل نہ کرنا، جمہوری روح کے منافی ہے۔ ادبی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت واقعی زبانوں کے فروغ میں سنجیدہ ہے تو اسے اداروں کو مضبوط کرنے، مالی معاونت بڑھانے اور تحقیقی منصوبوں کی سرپرستی کرنی چاہیے نہ کہ ان کی انتظامی ساخت بدل کر انھیں سرکاری تحویل میں لے آئے۔ یہ ضروری نہیں کہ حکومت اور ادبی ادارے آمنے سامنے کھڑے ہوں۔
ایک متوازن حل یہ ہو سکتا ہے کہ شفافیت اور احتساب کے لیے مشترکہ مشاورتی بورڈ تشکیل دیا جائے جس میں حکومت کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ ادبی شخصیات اور ماہرینِ لسانیات شامل ہوں۔ اس طرح نہ صرف اداروں کی خود مختاری برقرار رہے گی بلکہ حکومتی نگرانی بھی ممکن ہوگی۔ علاوہ ازیں، زبانوں کو نصاب میں مؤثر طور پر شامل کرنا، ڈیجیٹل آرکائیوز بنانا اور نوجوان نسل کو مقامی زبانوں کی تعلیم سے جوڑنا زیادہ سود مند اقدامات ثابت ہو سکتے ہیں۔ زبانوں کی ترقی کا اصل راستہ انتظامی کنٹرول نہیں بلکہ تعلیمی اور سماجی شمولیت ہے۔ اجلاس کے اختتام پر متفقہ قرارداد کے ذریعے حکومتِ بلوچستان سے مطالبہ کیا گیا کہ بلوچستان ریجنل لینگویجز بل 2025 کو واپس لے کر ادبی اداروں سے بامعنی مشاورت کی جائے۔
یہ مطالبہ صرف ادارہ جاتی مفاد کا نہیں بلکہ صوبے کی لسانی شناخت اور ثقافتی بقا کا سوال ہے۔ بلوچستان کی سیاسی اور ادبی امور کے ماہر اورکئی کتابوں کے مصنف عزیز سنگھور کے مطابق زبانیں قوموں کی روح ہوتی ہیں، اگر ان کے محافظ اداروں کی آزادی سلب کر لی جائے تو تخلیقی عمل ماند پڑ جاتا ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ اس حساس معاملے کو سیاسی عجلت کے بجائے فکری سنجیدگی سے دیکھے۔ بلوچستان کی لسانی وراثت ایک مشترکہ اثاثہ ہے، اسے مضبوط کرنے کا راستہ شراکت اور اعتماد سے ہو کر گزرتا ہے، نہ کہ سرکاری تحویل کے یک طرفہ فیصلوں سے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ قانون سازی سے پہلے مکالمہ ہو، اختلاف کو سنا جائے، اور ایسے حل تلاش کیے جائیں جو زبانوں کی ترقی و ترویج کے لیے واقعی معاون ثابت ہوں۔ ورنہ خدشہ یہی ہے کہ ایک اچھے مقصد کے نام پر اٹھایا گیا قدم لسانی و ادبی زوال کا پیش خیمہ بن جائے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل