Sunday, March 15, 2026
 

افغان طالبان کے نئے فوجداری قوانین، جبر اور مظالم کی منظوری

 



افغان طالبان رجیم کی صنفی امتیازی پالیسیوں اور سخت پابندیوں نے افغان معاشرے کو گھٹن زدہ بنا دیا ہے. ایمنسٹی انٹرنیشنل  کے مطابق افغانستان میں خواتین، اقلیتیں اور مخالفین شدید خطرات سے دوچار ہیں. افغان طالبان کے نام نہاد فوجداری ضابطہ نے صنف، مذہب اور سماجی حیثیت کی بنیاد پر امتیاز اور ظلم کو قانونی تحفظ فراہم کر دیا۔ طالبان رجیم کے نئے قوانین مذہبی اقلیتوں اور اختلاف رائے رکھنے والوں کیخلاف امتیازی سزاؤں کو باقاعدہ قانونی جواز دیتے ہیں۔ فوجداری ضابطہ میں طالبان قیادت پر تنقید کو بھی جرم قرار دے دیا گیا۔ نام نہاد فوجداری قوانین نے خواتین کے خلاف تشدد اور امتیاز کو قانونی شکل دے کر انہیں سماجی زندگی سے بے دخل کرنے کی راہ ہموار کی۔ ماہرین کے مطابق طالبان کے نام نہاد فوجداری قوانین دراصل ریاستی سطح پر امتیاز اور جبر کو قانونی شکل دینے کی کوشش ہیں۔ افغان طالبان کی پالیسیاں افغانستان کو انسانی حقوق کی شدید ترین خلاف ورزیوں کی طرف دھکیل رہی ہیں۔  طالبان قوانین کا اصل مقصد خواتین اور اختلاف رائے رکھنے والوں کو مکمل طور پر خاموش کرانا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل