Sunday, March 15, 2026
 

گریٹر اسرائیل کا دیباچہ

 



امریکی سرپرستی میں اسرائیل کی ایران پر دن رات بارود کی بارش اور سفاکانہ حملوں، ایران کی مشرق وسطی کے ممالک میں موجود امریکی تنصیبات اور فوجی اڈوں پر ڈرون اور میزائل حملے، پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو اگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی اور ایک پاکستانی کی نظر سے دیکھیں تو ساری گتھیاں سلجھ جائیں گی۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ آخر ایران سے ایسا کونسا جرم سرزد ہوا جس کی سزا دینے کے لیے دنیا کے ٹھیکیدار ان پر رات کی تاریکی اور دن کی روشنی میں آگ برسا رہے ہیں۔ اسرائیل اور امریکا کی نظر میں ایران کے جرائم تو بہت ہیں مگر دنیا کو بتایا گیا کہ ایران کو مہلک ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے یہ حملہ کیا گیا۔ اگر ایٹمی صلاحیت حاصل کرنا اور ایٹم بم بنانا جرم ہے تو امریکا اور اسرائیل سمیت کئی ممالک یہ جرم بہت پہلے کرچکے ہیں۔ دنیا کی تاریخ میں پہلی بار امن کے خود ساختہ ٹھیکیدار ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکا ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرا کر لاکھوں انسانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا کر انسانیت دشمن ریاست اور مجرم اعظم ثابت ہوچکا ہے۔ ایران ایٹم بم بنا بھی رہا ہے تو کس قانون کی بنیاد پر وہ ایران پر چڑھائی کر سکتے ہیں؟ حملہ آور تسلیم کر چکے ہیں کہ ابھی تک ایران نے ایٹمی صلاحیت حاصل نہیں کی اور ایران ایٹم بم نہ بنانے کا وعدہ بھی کر رہا ہے مگر ایٹم بم رکھنے اور گرانے والے ایران پر ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کے جرم کی پاداش میں حملہ آور ہیں۔ تمام مذاہب، معاشرتی اقدار اور اخلاقیات ہر کسی کو اپنی حفاظت و دفاع کا حق دیتے ہیں۔ ہر وہ ہتھیار جو جان و مال کے تحفظ اور دشمنوں کے شر سے اپنے آپ کو بچانے کے لیے ضروری ہو وہ بنانا اور خریدنا بنیادی حقوق میں آتا ہے تو ایران کی یہ کوشش قابل سزا جرم کیسے بن گئی؟ ہماری نظر میں ایران کے جرائم میں سرفہرست مسلمان ریاست ہونا، فلسطین و غزہ کے مظلومین کی حمایت اور اسرائیل کے سامنے نہ جھکنے سے انکار ہے۔ مشاہدے، منطق اور سائنسی نقطہ نظر سے چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔ جیسے دن، رات اور رات دن سے، روشنی تاریکی اور تاریکی روشنی سے، ٹھنڈا گرم اور گرم ٹھنڈے سے۔ اسی طرح ظالم مظلوم اور مظلوم ظالم سے پہچانا جاتا ہے۔ میرے خیال میں اس پر اجماع امت ہے کہ اسرائیل اور امریکا اسلام اور مسلمان دشمن ہونے کے علاوہ امن عالم کے لیے خطرناک اور ہر فساد کی جڑ ہے اور ان دونوں سے لمحہ موجود میں نبرد آزما صرف ایران ہے جو ایران کا حق پر ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ پھر کوئی منصف مزاج انسان حق و باطل کی لڑائی میں غیرجانبدار کیسے رہ سکتا؟ غیر جانبداری منافقت کا دوسرا نام ہے۔ معرکہ حق و باطل میں حق کا ساتھ دینا واجب ہے، اس لیے ایران اسرائیل جنگ میں ہمیں مظلوم ایران کے ساتھ اور ظالم امریکا و اسرائیل کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔ اگر عقیدے کی عینک اتار کر ہم اس جنگ کو ایک پاکستانی کی نظر سے دیکھیں تو ہر ذی شعور انسان کو ایران مظلوم اور حق پر جب کہ اسرائیل اور امریکا ظالم، غاصب، جابر اور باطل نظر آئے گا، پھر ہم اس معرکہ حق و باطل میں غیر جانبدار رہ کر باطل، ظالم و جابر اسرائیل اور امریکا کی خاموش حمایت کیوں کریں۔ ایسا اکثر غیر جانبداری کے پیچھے چھپ کر کیا جاتا ہے مگر یاد رکھیں کہ معرکہ حق و باطل میں غیر جانبداری منافقت کا دوسرا نام ہے۔ بحیثیت پاکستانی اس جنگ کو دیکھیں تو رب کعبہ کی قسم کہ یہ ہماری بقا اور پاکستان کے دفاع کی جنگ ہے ہمیں آج نہیں تو کل اسے لڑنا پڑے گا۔ خدانخواستہ ایران ہار گیا تو پاکستان کا وہ ازلی دشمن اسرائیل ہمارے سر پر بیٹھ جائے گا جو ماضی میں ہندوستان کے ساتھ مل کر ہماری ایٹمی تنصیبات تباہ کرنے کے لیے حملے کی کوشش کرچکا ہے مگر اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے دونوں کو منہ کی کھانی پڑی تھی۔ مئی 2025ء میں اسرائیل کی بھرپور معاونت کے باوجود پاکستانی افواج کے ہاتھوں ہندوستان کی شکست فاش جس نے نریندر مودی کو سرنڈر موذی بنا دیا اور دنیا کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہا دراصل و درحقیقت اسرائیل کی شکست ہے۔ عالمی امن ایوارڈ نہیں "جنگی جرائم کے عالمی ایوارڈ" کا حقیقی حقدار ٹرمپ پاکستانی فضائیہ کے ہاتھوں مئی کے معرکہ حق میں ہندوستان کے گرائے گئے رافیل طیاروں کی تعداد کو 6 مانے یا 12 اس سے فرق نہیں پڑتا اور نہ ہمیں اس پر خوش ہونا چاہیے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ ساتھی، اتحادی ہندوستان اور اسرائیل کا ہے ہمارا نہیں۔ ہمارے عقیدے اور رسول اللہﷺ کی احادیث کی روشنی میں صہیونی ہمارے ازلی و ابدی دشمن تو ہیں ہی مگرپاکستان تو ریاستی، مملکتی اور بابائے قوم محمد علی جناح کی وضع کردہ پالیسی کے مطابق اسرائیل کو تسلیم ہی نہیں کرتا تو ایران سے بدظن بعض پاکستانی احباب ذرا راہنمائی فرمائیں کہ اس جنگ میں بحیثیت پاکستانی، ایران اور اسرائیل کی جنگ میں ایران کا ساتھ دینا چاہیے یا خاموش رہ کر امریکا اور اسرائیل کا؟  ایران سے بدظن احباب سے اتنا کہوں گا۔ اس جنگ میں ایران کی مخالفت نہیں غیر جانبدار رہنا اسرائیل اور امریکا کا ساتھ دینے کے مترادف ہوگا جو یقیناً کوئی مسلمان یہ نہیں چاہے گا۔ تو خدا کے لیے ایران پر حملہ غزہ کے پھول اور کلیوں جیسے بچوں کے قاتل صہیونی درندوں کی گریٹر اسرائیل اور لاکھوں مسلمانوں کے قاتل امریکا کی جنونی جنگ کو عقیدے کی جنگ نہ بنائیں یہ مسلمان ممالک کو نیست و نابود کرنے کا ایک طویل المدتی منصوبہ ہے جس کے کئی مراحل میں ناعاقبت اندیش مسلمان حکمرانوں کی وجہ سے یہود و ہنود کو کامیابی حاصل ہو چکی ہے۔  ایران پر امریکی اسرائیلی یلغار گریٹر اسرائیل کے منصوبے کا دیباچہ اور سرنامہ ہے جس میں پہلے ایران، عراق اور ترکیہ سے گریٹر کردستان، پھر پاکستان اور ایران سے گریٹر بلوچستان اور پھر پاکستان اور افغانستان سے گریٹر پختونستان برآمد ہوگا تو اس کے بعد گریٹر اسرائیل بنے گا۔ اس جنگ کو امریکا، اسرائیل اور ایران کی جنگ نہ سمجھیں یہ پاکستان سمیت بلکہ پوری امت مسلمہ کی بقا کی جنگ ہے مگر سادہ لوح مسلمان شیعہ سنی کے چکر میں اسے عقیدے کی جنگ سمجھ کر اس سے لاتعلق ہو رہے ہیں اور امریکا اسے مذہبی ٹچ کے ساتھ اور اسرائیل اسے گریٹر اسرائیل کا دیباچہ سمجھ کر لڑ رہا ہے۔ ٹرمپ کے کندھوں پر مخصوص کلٹ کے پادریوں اور مذہبی لیڈروں کا دست شفقت رکھنا اور جنگ میں کامیابی کے لیے اجتماعی دعاؤں نے صورتحال واضح کر دی کہ یہ درحقیقت مسلمانوں کے خلاف عالمی جنگ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں رہتا کہ یہ جنگ آج نہیں تو کل صرف ایران نہیں پورے عالم اسلام کے خلاف لڑی جائے گی، جس کے لیے کئی دہائیوں سے یہود و ہنود تیاری کر رہے ہیں۔ ایران عراق جنگ، مشرق وسطیٰ کے ممالک میں امریکی فوجی اڈے، ایران عراق جنگ، افغانستان، عراق پر امریکی یلغار، پاک افغان کشیدگی اور اب ایران پر اسرائیل اور امریکا کی مشترکہ یلغار، مشرق وسطیٰ کے اسلامی ممالک کو ایران کے ساتھ دست وگریبان اور ایک دوسرے پر حملہ آور کروانا اس منصوبے کی کڑیاں ہیں۔ اس لیے پاکستان، افعانستان سمیت تمام اسلامی ممالک باہمی اختلافات ختم اور ہوش کے ناخن لے کر اس جنگ کو عقیدے کی جنگ بنانے کی بجائے عقل و شعور اور فراست کے ساتھ امت کی وحدت کے لیے عملی اقدامات کریں اور عالم کفر کے شر سے امت مسلمہ کو محفوظ رکھنے کے لیے عملی اقدامات کریں ورنہ تاریخ معاف نہیں کرے گی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل