Sunday, March 15, 2026
 

ناامیدی کو ذہن سے نکال دیجیے!

 



رابرٹ بریٹ (Robert Barrat) 1957 میں لندن میں پیدا ہوا۔ اسے بچپن سے گہرے پانیوں میں زندگی گزارنے کا شوق تھا۔ ایسے لگتا تھا کہ نیلگوں سمندر اور اس کے درمیان ایک مضبوط رابطہ ہے۔ اسکول مکمل کرنے کے بعد‘ فیصلہ کیا کہ اپنے ملک کی بحریہ میں ملازمت کرے گا۔ حکومتی اداروں سے رابطہ کرنے کے بعد‘ پتہ چلا کہ برطانوی نیوی میں آنے کے لیے کڑے امتحان کی ضرورت ہے۔ اب کالج جا رہا تھا۔ پیریڈ ختم ہونے کے بعد گراؤنڈ میں چلا جاتا اور بہت سخت کوش ورزش کرتا۔ ساتھ ساتھ جم بھی کرنا شروع ہو گیا۔ چند ماہ بعد ‘ ایسے لگتا تھا کہ اس کا جسم فولاد کا بنا ہوا تھا۔ چھ فٹ سے زیادہ قد اور ایک کسرتی باڈی ۔خیر ‘ بحریہ میں جانے کا امتحان دے ڈالا۔ جو اس نے آسانی سے پاس کر لیا۔ اب اسے برطانوی نیوی میں نوکری مل گئی۔ زندگی کا خواب مکمل ہو گیا۔ تعیناتی‘ ایک جنگی جہاز پر ہوئی۔ جو تقریباً چار ماہ تک مسلسل سمندر میں رہا۔ جب واپس بندرگاہ پر آیا تو رابرٹ اپنے سینئر افسر کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ بالکل چھٹیاں نہیں کرنا چاہتا۔ اسے جتنی بھی جلدی ہو‘ فوراً کسی دوسرے جنگی جہاز پر دوبارہ سمندر میں بھیج دیا جائے۔ سینئر افسر حیران رہ گیا۔ کیونکہ ایسا ہوتا نہیں تھا۔ جو بھی افسر ‘ چار پانچ ماہ ‘ مسلسل بحری بیڑے کا حصہ رہتا تھا۔ اسے دو ہفتہ کے لیے چھٹیاں دی جاتی تھیں۔ اس رویے کے برعکس رابرٹ ضد کر رہا ہے کہ اسے فوراً سے پیشتر ‘ دوبارہ پانی میں بھیج دیا جائے۔ حکم دیا کہ ڈاکٹر اس کا ذہنی توازن دیکھیں۔ بحریہ کے ڈاکٹرز نے بڑی محنت سے اس کا نفسیاتی معائنہ کیا۔ لکھ کر دیا کہ رابرٹ بالکل ٹھیک ہے۔ اس کی زندگی میں سب سے بڑا عشق گہرے پانیوں میں نوکری کرنا ہے۔ سینئر افسر نے رپورٹ پڑھی ۔ اسے ‘ ایک ایسے جنگی جہاز میں تعینات کر دیا جو کافی مدت کے لیے ایک مہم پر جا رہا تھا۔ وقت گزرتا رہا۔ رابرٹ ‘ اپنے شوق کی بدولت پوری برطانوی بحریہ میں بہترین افسروں کی فہرست میں آ گیا۔ دو بلکہ ڈھائی دہائیاں گزر گئیں۔ ایک دن رابرٹ عرشے پر آرام سے پیدل چل رہا تھا کہ ایک بھاری مشین کا ٹکڑا حادثاتی طور پر اس پر آن گرا‘ اس کی بائیں ٹانگ کچلی گئی۔ درد کی شدت سے بے ہوش ہو گیا۔ آنکھ کھلی تو ایک اسپتال میں تھا۔ اسے ہیلی کاپٹر کے ذریعے‘ ایک نزدیکی برطانوی اسپتال میں لایا گیا تھا۔ جیسے ہی ہوش میں آیا تو ایک تجربہ کار سرجن‘ ملنے کے لیے آیا۔ بتانے لگا کہ اس نے پوری کوشش کی ہے ۔ مگر اب اس کی ٹانگ کو ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ ہڈی‘ اتنی بری طرح کچلی جا چکی ہے کہ اس کا جڑنا ناممکن ہے۔ اب ایک ہی حل ہے کہ اس کی ٹانگ کو کاٹ دیا جا ئے۔ رابرٹ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔معلوم تھا کہ اس کی بقیہ زندگی ایک اپاہج کے طور پر گزرے گی کوئی اور چارہ بھی نہیں تھا۔ اس کی بائیں ٹانگ کاٹ دی گئی ۔ ایک ماہ اسپتال گزارنے کے بعد‘ جب واپس اپنے گھر آیا تو بیساکھی کے سہارے چل رہا تھا۔ چارماہ گزر گئے۔ رابرٹ واپس سرجن کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ بیساکھیوں کا سہارا لینا بہت معیوب لگتا ہے۔ اسے مصنوعی ٹانگ لگا دی جائے۔ چنانچہ ایسے ہی ہوا۔ اسپتال میں مصنوعی اعضا کے ڈیپارٹمنٹ نے اس کے لیے بہت اچھی‘ مصنوعی ٹانگ بنا دی۔ رابرٹ اس کے بعد‘ بیساکھیوں کے بغیر چلنا شروع ہو گیا۔ تھوڑا سا لنگڑاتا ضرور تھا ۔ مگر کسی کو یہ معلوم نہ پڑتا تھا کہ اس کی ایک ٹانگ نہیں ہے۔ مگر ابھی بہت کچھ ہونا باقی تھا۔ رابرٹ عزم و ہمت کا ایک پہاڑ تھا۔ ایک دن ‘ اپنے گھر کے نزدیک ایک گراؤنڈ میں گیا۔ وہاں کے کوچ سے ملا۔ اسے تمام صورت حال بتائی اور کہا کہ مصنوعی ٹانگ کے ساتھ دوڑنا چاہتا ہے۔ کوچ پریشان ہو گیا۔ کیونکہ اسے‘ ایک معذور آدمی کی تربیت کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ مگر صرف اتنا اندازہ تھا کہ معذور لوگوں کو دوڑنے کی تربیت دینے کے لیے ایک پورا محکمہ موجود ہے۔ رابرٹ کو وہاں بھیج دیا گیا۔ جب منتظمین نے رابرٹ کی ہمت دیکھی تو ایک کہنہ مشق کوچ کی خدمات حاصل کی گئیں۔ جس نے رابرٹ کی ٹریننگ شروع کر دی۔ ایک سال بعد‘ کوچ اور رابرٹ کی ریاضت رنگ لے آئی اور وہ بڑی آسانی سے گراؤنڈ میں بھاگنا شروع ہو گیا۔ اس کی رفتار بھی بہت تیز تھی ۔ 1988 میں سوئل (Seoul) میں پیرا اولمپکس تھیں۔ کوچ نے رابرٹ کو کہا کہ وہ پیرا اولمپکس کی تیاری شروع کر دے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ رابرٹ کا اعتماد متزلزل ہو گیا۔ مگر ایک ٹانگ کے ساتھ‘ میں کیسے دوسروں کا مقابلہ کروں گا؟ کوچ نے اسے ہمت دلائی۔ اس کی ٹریننگ مزید سخت کر ڈالی۔ پیرا اولمپکس میں شرکت کے لیے‘ اب رابرٹ مکمل طور پر تیار تھا۔ تیز رفتار دوڑ دیکھ کر کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ وہ معذور ہے۔ اس نے اپنے لیے ‘ سو میٹر کی دوڑ منتخب کی جو کہ حددرجہ دشوار تھی۔ جب اپنے مخصوص اسپورٹس میں دوڑ لگائی‘ تو لوگ رفتار دیکھ کر حیران رہ گئے۔ ساتھ ساتھ رابرٹ نے سو میٹر کی وہ دوڑ بھی لگائی جس میں چار ایتھلیٹ ‘ ٹیم بنا کر دوڑتے ہیں۔ دونوں ریسوں میں کامیاب ٹھہرا۔اسے کانسی کے تمغے سے نوازا گیا۔ اب رابرٹ ہر مقابلہ میں حصہ لیتا تھا۔ بار سیلونا میں 1992 کی پیرا اولمپکس میں بھی حصہ لیا۔ اس میں بھی اسے امتیازی تمغہ سے نوازا گیا۔ دس برس کے عرصہ میں رابرٹ نے یورپ اور اپنے ملک یعنی یو کے ، کے ہر مقابلہ میں حصہ لیا۔ مختلف مقابلوں میں گولڈ میڈل تک لیتا رہا۔ بارسلونا کی پیرا اولمپکس کے بعدریٹائر ہو گیا اور ایک بینک میں ملازمت کر لی۔ اس کا جذبہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی توانا رہا۔ تین مختلف رگبی ٹیمز کا کھلاڑی بن گیا۔ ساتھ ساتھ قومی سطح پر معذور لوگوں کو اسپورٹس سکھانے کا کوچ بن گیا۔ آج کل ‘ لندن کی والی بال ٹیم سے بھی منسلک ہے۔ ساتھ ساتھ ‘ برف پر اسکیٹنگ کرنے کا بھی شوقین ہے۔ رابرٹ آج بھی ایک بھرپور اور آسودہ حال زندگی گزار رہا ہے۔ سوچ رہے ہوں گے کہ ایک معذور آدمی کی سچی کہانی سنانے کا کیا مقصد ہے؟ جناب یہ حقائق آپ کی زندگی تبدیل کر سکتے ہیں۔ ہر انسان کسی نہ کسی طرح‘ نامکمل ہوتا ہے۔ کوئی ذہنی آزمائش میں مبتلا ہے۔ تو ایک خاص اقلیت ‘ جسمانی معذوری کا شکار ہے۔ جسمانی طور پر نامکمل ہونا تو نظر آتا جاتا ہے۔ مگر ذہنی طور پر مسائل دوسروں کو بہت کم ہی معلوم پڑتے ہیں۔ تمام انسانوں کی بات نہیں کر رہا۔ مگر ایک محدود تعداد‘ کسی نہ کسی سقم کا شکار ہے۔ اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ ہمارے جیسے ملک میں ‘ جہاں بے بس لوگوں کو تکلیف پہنچا کر دوسرے انسان اکثر ایک منفی خوشی حاصل کرتے ہیں۔ وہاں‘ سب سے بڑا مسئلہ ‘ امید کا ختم ہو جانا ہے۔ ان گنت نوجوان پوچھتے پھرتے ہیں کہ ہم کامیاب کیسے ہو سکتے ہیں؟ ہمارے تو مسائل ہی بہت گھمبیر ہیں؟ یہ رویہ ذہنی ہو یا جسمانی ۔ دراصل یہی رویہ آپ کاسب سے بڑا دشمن ہے۔ اور کامیابی کے سفر پر روانہ ہونے کے لیے ‘ ناامیدی سب سے پتھریلی رکاوٹ ہے۔ جس نے آپ کی صلاحیت کو مقید کر رکھا ہے۔ مسائل جو کچھ بھی ہوں ۔ اگر آپ میں آگے بڑھنے کا عزم ہے تو یقین فرمائیے کوئی بھی دنیاوی طاقت راستے میں حائل نہیں ہو سکتی۔ بہت سے نوجوان یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارے پاس تو کاروبار کرنے کے لیے کوئی سرمایہ بھی نہیں ہے۔ یقین فرمائیے اگر آپ ہمت دکھائیں تو یہ کمی بھی دور ہو جاتی ہے۔تھوڑا عرصہ پہلے‘ کووڈ کی بلا نے پورے پاکستان کو بند کر رکھا تھا۔ ہمارا ملک ہی کیا ‘ پوری دنیا ہی جمود کا شکار تھی۔ لاہور میں ایک سولہ سترہ سال کے نوجوان نے اپنے ہاتھ سے برگر بنانے شروع کر دیے۔ لاہوری ذائقہ کے مطابق بنے ہوئے یہ برگر‘ پہلے مقامی آرڈر پر بناتا رہا۔ تھوڑے ہی عرصے میں ‘ اس نے آن لائن آرڈر لینے شروع کر دیے۔ صرف تین برس میں اس کا کاروبار اتنا بڑھ گیا کہ آج لاہور ہی میں اس کے تین ریسٹورینٹ ہیں۔ جو صرف برگر بنا کر بیچتے ہیں۔ ان میں سے ایک میرے گھر کے نزدیک ہے۔ وہاں ‘ گاڑیوں اور لوگوں کی قطاریں لگی ہوتی ہیں۔ انتظار تقریباً تیس منٹ تک کا ہے۔ لوگ بڑے آرام سے انتظار کرتے ہیں۔یہ کامیابی بالکل سامنے کی بات ہے۔ دراصل رابرٹ نے ایک چیز ثابت کی ہے کہ ناامیدی ‘ کچھ بھی نہیں ہے۔ آپ امید کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ مسلسل محنت کرتے جائیں تو ہر شعبے میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ سکتے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل