Loading
تاریخ شاہد ہے کہ دنیا بھر میں ہونے والی جنگیں انسانیت کے حق میں کبھی اچھی ثابت نہیں ہوئیں بلکہ ہر جنگ کے بعد تباہی و بربادی کی نئی داستان رقم ہوتی ہے۔ شکست و فتح سے قطع نظر جنگوں سے کبھی مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ یہ نت نئے مسائل کو جنم دینے کا سبب بنتی ہیں۔
دنیا کے طاقت ور حکمرانوں نے اپنی انا کی تسکین اور تکبر و گھمنڈ کے نشے میں چور ہو کر اپنے سے کمزور ملکوںو ریاستوں پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے اور اپنا تسلط قائم کرنے اور انھیں اپنا دست نگر بنانے کے لیے مہلک ترین ہتھیار استعمال کیے اور خون کی ہولی کھیلنے سے دریغ نہ کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکا نے جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرا کر زمین پر جو قیامت صغریٰ برپا کی جاپانی قوم کئی دہائیوں تک اس کے مضر اثرات سے باہر نہ آ سکی۔ نصف صدی سے زائد عرصہ گزر گیا لیکن امریکا پر کمزور ملکوں کو تسخیر کرنے کا جنون آج بھی سوار ہے، ویت نام، سیریا، افغانستان، عراق، لیبیا، شام کے بعد اب ایران اس کے نشانے پر ہے۔ بدقسمتی سے امریکا پر صدر ٹرمپ جیسے شخص کی حکمرانی ہے جس کے قول و فعل میں اتنے تضادات ہیں کہ اعتماد و اعتبار کرنا آسان نہیں۔ اس پہ مستزاد ٹرمپ کے مشیران ووزرا ہیں جو انھیں بہکانے اور اکسانے میں ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایران پر حملے کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ انھیں ان کے مشیروں اور وزیروں نے بتایا کہ ایران امریکا پر حملے میں پہل کر سکتا ہے۔ اس خطرے کے پیش نظر ایران پر ہم نے حملہ کیا۔ جنگ کا دائرہ اب پھیلتا جا رہا ہے۔
ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے آڈیو بیان میں دو ٹوک اور صاف الفاظ میں کہا ہے کہ ایران اپنے ہر اس شخص کے خون کا حساب لے گا جو حالیہ جنگ میں شہید ہوا ہے۔ ایرانی قوم کو دبایا نہیں جا سکتا۔ دشمن پر دباؤ ڈالنے کے لیے آبنائے ہرمز بند رہے گی انھوں نے مزید کہا کہ ہم خطے کے پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں تاہم مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈے بند کیے جائیں بصورت دیگر ان پر حملوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ادھر صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران نے امریکی مطالبات تسلیم نہ کیے تو نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں کیوں کہ میں ان کے انتخاب سے خوش نہیں ہوں۔
امریکا اور ایران ہر دو جانب سے قیادت کے سخت گیر بیانات اور غیر لچکدار رویے کے باعث یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آنے والے دنوں میں جنگ کی شدت اور تباہ کاریوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، امریکا نے ایران پر شدید ترین حملے جاری رکھنے کی دھمکی دی ہے۔ اور B-2 طیارے حملے کے لیے روانہ کر دیے ہیں، مبصرین و تجزیہ نگار اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر صدر ٹرمپ ایران میں اپنے مطلوبہ اہداف جلد حاصل نہ کرسکے اور ایران کی مزاحمت تادیر جاری رہی، جس کے امکانات بعیداز قیاس نہیں، تو وہ اپنی فتح کو ہر صورت یقینی بنانے کے لیے محدود پیمانے پر ایران پر ایٹمی حملہ بھی کر سکتے ہیں جو تباہی و بربادی کی یقینا ایک نئی خون آشام داستان رقم کرے گا، ٹرمپ نے پانچ ہزار فوجی مشرق وسطیٰ بھیجنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔
دنیا بھر کے رہنما صدر ٹرمپ سے ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جی 7 گروپ نے امریکا سے جنگ فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ روس اور چین اگرچہ سفارتی سطح پر جنگ رکوانے کے لیے اپنی غیر مرئی کوشش کر رہے ہیں لیکن اسرائیل و امریکا کی ہٹ دھرمی کے باعث چین و روس کی کاوشیں ثمر آور ثابت نہیں ہو رہی ہیں۔ روس یوکرین کے ساتھ جنگ میں الجھا ہوا ہے اور گزشتہ کئی ماہ سے صدر ٹرمپ روس سے یوکرین کے خلاف جنگ رکوانے کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن پیوٹن نے ٹرمپ کو مثبت جواب نہیں دیا۔ غالباً اسی باعث روس ایران امریکا جنگ رکوانے میں موثر کردار ادا نہیں کر پا رہا ہے۔ اس ضمن میں پاکستان کی پوزیشن بھی خاصی نازک ہے۔
اگرچہ پاکستان نے ایران پر امریکی حملے کی بھرپور مذمت کی ہے تاہم حکومتی سطح پر امریکی صدر ٹرمپ سے براہ راست ایسا کوئی مطالبہ اب تک سامنے نہیں آیا۔ البتہ سفارتی سطح پر مشرق وسطیٰ کی جنگی صورت حال کی شدت کو کم کرنے کے لیے حکومت کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تعلقات اس جنگ کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔
چوں کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان چند ماہ قبل ایک سیکیورٹی دفاعی معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کا دفاع کرنے کے پابند ہیں۔ سعودی عرب میں بھی قائم امریکی فوجی اڈوں پر ایران مسلسل بمباری کر رہا ہے۔ بقول مجتبیٰ خامنہ ای مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک میں موجود فوجی اڈے بند کیے جانے تک حملے جاری رہیں گے۔ سعودی عرب پاکستان کی جانب امید بھری نظروں سے دیکھ رہا ہے کہ وہ حملے روکنے کے لیے ایران پر دباؤ ڈالے تاکہ سعودی عرب ایرانی حملوں سے محفوظ رہ سکے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل