Loading
اسلامی جمہوریہ پاکستان اور پاکستانی عوام پچھلے 45برسوں سے افغانستان ، افغان عوام اور افغان طالبان پر جتنے بھی مسلسل احسانات کرتے چلے آ رہے ہیں، افغان طالبان نے اِن سب پر اپنے احسان فراموش اقدامات اور اپنی محسن کش وارداتوں سے پانی پھیر دیا ہے ۔اِس بارے جس کسی کو ذرا سا بھی شک تھا، بھارت و اسرائیل کی گود میں جا بیٹھنے والے افغان طالبان نے سب کے شک دُور کر دیے ہیں ۔
ویسے تو پاکستان بننے کے بعد سے ہی افغانستان میں آنے والا ہر حکمران ، مختلف انداز و اطوار سے ، پاکستان اور پاکستانی عوام کا معاند رہا ہے ، لیکن افغان طالبان نے معاندت و دشمنی کی ہر حد پار کر لی ہے ۔افغانستان کے شاہر ظاہ‘ سردار داؤد ، حفیظ اللہ امین ، نور محمد ترکئی ، ببرک کارمل ، نجیب اللہ ، حامد کرزئی اور اشرف غنی نے اپنے اپنے دَور میں اور اپنے اپنے انداز میں پاکستان اور پاکستانی عوام کو نقصان پہنچانے کی (ناکام)کوششیں کیں ، لیکن مُلّا عمر اور مُلّا ہیبت اللہ کی طالبان حکومتوں نے پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ ویسے تو مُلّا عمر کی طالبان حکومت ہی سے ہمارے صاحبانِ اختیار کو سبق سیکھ لینا چاہیے تھا کہ یہ طالبان قابلِ اعتبار اور قابلِ اعتماد لوگ نہیں ہیں ۔
مُلّا ہیبت اللہ اخونزادہ تو ہر حد سے متجاوز ہو گیا ہے۔ اِس شخص کی حکومت کا ہر وزیر پاکستان کا یوں مقروض اور زیر بارِ احسان ہے کہ سبھی نے پاکستان کی مفت روٹیاں کھائی ہیں ۔ اِن کی اولادیں پاکستان میں پیدا ہُوئیں ، یہاں پلی بڑھیں اور یہاں تعلیم حاصل کی ، لیکن اب یہ سبھی احسانات بھُلا کر بھارت اور اسرائیل کی گود میں جا بیٹھے ہیں ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پچھلی تین چار پریس کانفرنسوں کا ڈیٹا نکال کر ایک بار پھر سُنیں اور دیکھیں تو افغان طالبان ( خواہ وہ ٹی ٹی اے ہو یا ٹی ٹی پی) کی طرف دیکھنے اور اُن کا کسی بھی صورت میں ذکر اذکار کرنے کو جی نہیں چاہتا ۔ افسوس اور دکھ کی بات یہ ہے کہ ہمارے اندر اب بھی ایسے مدارس ، گروہ ، شخصیات اور تنظیمیں موجود ہیں جو اِن پاکستان دشمن دہشت گرد افغان طالبان بارے نرم گوشہ رکھتے ہیں ۔
مثال کے طور پر پچھلے ہفتے پاکستان سے تین افراد افغان طالبان سے ملاقاتیں کرنے کے لیے کابل گئے۔ یہ تینوں افراد سابقہ افغان جہاد کی باقیات بھی کہلاتی اور گردانی جاتی ہیں۔ حیرانی کی بات ہے کہ پچھلے چار مہینوں سے پاکستان و افغانستان میں آنا جانا مسدود ہو چکا ہے ، باہمی تجارت تک بند ہے ، اِن لوگوں کو کابل تک رسائی کیسے مل گئی ؟ اب جب کہ بی بی سی اور پاکستان کے سوشل میڈیا میں اِن تینوں بارے بہت سی باتیں سامنے آ چکی ہیں ، اب ایک مختصر سا بین السطور بیان یوں سامنے آیا ہے :’’ تینوں شخصیات کا دَورئہ کابل نجی تھا ۔‘‘
مذکورہ تینوں شخصیات اب واپس پاکستان آ چکی ہیں ، مگر تینوں مہر بہ لب ہیں ۔ تینوں کسی کو بتا نہیں رہے کہ انھیں کابل میں کس نے بلایا تھا؟ کابل میں اُن کی کن سے ملاقاتیں ہُوئیں؟ اور وہاں سے وہ پاکستانی عوام کے لیے کیا خوشخبری اور امن کا کیا پیام لائے ہیں ؟ مذکورہ تینوں افراد جونہی واپس پاکستان آئے، افغان طالبان نے ایک بار پھر پاکستان پر خونریز حملہ کر دیا ۔ 13مارچ2026کو لکی مروت ( کے پی کے) میں پولیس پر آئی ای ڈی حملے میں پولیس کے 7 جوان شہید ہو گئے۔
یہ تازہ واردات افغان طالبان کی کارستانی اور شیطانی ہے ۔ یہ واردات ایسے لمحات میں ہُوئی ہے جب پاکستان افغان طالبان کے خلاف ’’آپریشن غضب للحق‘‘ جاری رکھے ہُوئے ہے۔ پاکستان، اِس آپریشن کے تحت، اب تک 650سے زائد دہشت گرد افغان طالبان کو جہنم واصل کر چکا ہے۔ لکی مروت میں تازہ واردات کے بعد خیبر پختونخوا کی انسدادِ دہشت گرد فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے تحت نصف درجن سے زائد خوارج کو بھی جہنم رسید کیا ہے ۔ تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق، پاکستان نے دہشت گرد افغان طالبان کا جس شدت سے تعاقب جاری رکھا ہُوا ہے،اب یہ جانیں بچانے اور محفوظ مقامات کی تلاش میں راہِ فرار اختیار کررہے ہیں ۔
مصدقہ اطلاعات کے مطابق ،دہشت گرد افغان طالبان کابل و قندھار سے فرار ہو کر دُور بامیان کے پہاڑوں میں پناہ لے رہے ہیں ۔ افغان طالبان نے اپنے اعمال و افعال سے ثابت کیا ہے کہ: لاتوں کے بھوت باتوں سے ہر گز نہیں مانتے ۔ یہ مکالمے اور شرافت کی زبان سے ناآشنا ہیں۔ماضی میں جماعت اسلامی کے سابق امیر جناب سراج الحق ، جمعیت العلمائے اسلام کے حضرت مولانا فضل الرحمن اورکراچی کے مفتی تقی عثمانی صاحب ایسے جید اور محترم لوگ بھی طالبان کے افغانستان تشریف لے گئے ، سبھی نے طالبان قیادت سے مقدور بھر ملاقاتیں کیں ، مگر نتیجہ صفر نکلا ہے۔طالبان نے احسان فراموشی کرتے ہُوئے نہ ہمسائیگی کی لاج رکھی اور نہ جید اساتذہ کا اکرام کیا۔باقی کیا بچتا ہے ؟ یعنی:بھارتی روپے و اسرائیلی شیکل (Shekel) میں اتنی طاقت ہے کہ مقتدر افغان طالبان نے اپنے سب محسنین کی مہربانیاں و شفقتیں پسِ پشت بھی ڈال دی ہیں اور اپنے متنوع لالچوں سے مغلوب ہو کر اپنی آنکھیں بھی ماتھے پر رکھ لی ہیں ۔
پاک،افغان بڑھتے تناؤ میں چین کے نمایندہ خصوصی برائے افغانستان Yue Xiaoyongنے بھی12مارچ2026کو کابل کا دَورہ کیا ۔ پاکستان کے وزیر خارجہ ، اسحق ڈار، اب تک پانچ بار افغان قیادت و نمائندگان سے ملاقاتیں کر چکے ہیں ۔ قطر، سعودیہ اور ترکیہ کی ثالثی میں پاک ، افغان مذاکرات ہو چکے ہیں تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے ۔ پاکستان کا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ ’’ دہشت گرد افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ کریں ۔‘‘لیکن بھارت و اسرائیل کی انگلیوں پر رقص کناں دہشت گرد افغان طالبان ڈھب پر نہ آسکے ؛ چنانچہ پاکستان کو اپنی سرزمین اور اپنے عوام کے تحفظ کے لیے بجا طور پر ’’آپریشن غضب للحق‘‘ کرنا پڑ رہا ہے ۔
اِس کے خاطر خواہ اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں ۔ وطنِ عزیز میں دہشت گردی کا گراف نیچے آیا ہے ۔ پھر بھی بھارتی و اسرائیلی پراکسیز اپنے آقاؤں کی نظروں میں سرخرو ہونے کے لیے پاکستان میں کہیں نہ کہیں دہشت گردی کی وارداتیں کر ہی ڈالتے ہیں۔ 13مارچ کو لکی مروت میں IED بم دھماکہ اور کوئٹہ ، کوہاٹ اور اسلام آباد /راولپنڈی میں ڈرونز بھیج کر ناکام حملہ کرنا افغان طالبان کی تازہ ترین وارداتیں ہیں۔ ہماری الرٹ فورسز نے نہائت سرعت اور بیدار مغزی سے جملہ افغان ڈرونز کو ہدف پر پہنچنے سے پہلے ہی مار گرایا ۔ مبینہ طور پر یہ ڈرونز اسرائیل ساختہ تھے ۔ اندازے یہی ہیں کہ براستہ بھارت یہ دہشت گرد افغان طالبان تک پہنچے ۔ اِن(ناکام) ڈرونز حملوں کا ایک مطلب یہ بھی لیا جارہا ہے کہ افغان طالبان نے اپنے لیے مزید بد بختی کو آواز دے ڈالی ہے؛ چنانچہ ’’ آپریشن غضب للحق‘‘ میں مزید سختی اور شدت آئی ہے۔فرار ہوتے دہشت گرد افغان طالبان کا گرم تعاقب کیا جارہا ہے ۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل