Sunday, March 15, 2026
 

ارکان پارلیمنٹ کے اثاثے خفیہ کیوں؟

 



پارلیمنٹ نے اپنے ارکان کے اثاثے خفیہ رکھنے کا جب فیصلہ کیا تھا تو ملک کے عوامی و سماجی حلقوں اور پارلیمنٹ سے باہر کی اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے اس فیصلے پر اعتراض کیا تھا اور ارکان پارلیمنٹ کے اثاثے عوام سے چھپانے کے اس پارلیمنٹ کے فیصلے کی مذمت کی تھی جس کے بعد اب عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی پارلیمنٹ کے ارکان کے اثاثے خفیہ رکھنے پر اعتراض کر دیا ہے اور اس ترمیم کو واپس لینے کا کہہ دیا ہے۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے قانون کے مطابق پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے نومنتخب ارکان کو اپنے اثاثے تحریری طور فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے جس کے بعد اب بھی ہر سال ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے قانونی طور پر پابند ہوتے ہیں مگر ہر سال ہوتا یہ ہے کہ ارکان وقت پر اثاثوں کی تفصیلات فراہم نہیں کرتے جس پر الیکشن کمیشن ان کی رکنیت معطل کر دیتا ہے اور معطل ارکان کے نام اشاعت کے لیے میڈیا کو فراہم کر دیے جاتے ہیں اور معطل ارکان جن میں وزیر و مشیر بھی شامل ہوتے ہیں کو اثاثوں کی تفصیلات فراہم کرنے کا نیا موقعہ دیا جاتا ہے جس کے بعد ارکان اپنی بحالی کے لیے اثاثے جمع کرانا شروع کرتے ہیں تو ان کی رکنیت بحال کرنے کا سلسلہ الیکشن کمیشن شروع کرتا ہے۔ ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی کی رکنیت معطلی اور بحالی کوئی نئی بات نہیں بلکہ سالوں سے یہ ہوتا آ رہا ہے الیکشن کمیشن کی طرف سے معطلی کے باعث معطل ارکان اجلاسوں میں شریک نہیں ہو سکتے اور انھیں تنخواہ و مراعات بھی نہیں ملتیں تو وہ اس طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اثاثے مجبوری میں انھیں ظاہر کرنا پڑتے ہیں تاکہ معطلی ختم اور بحالی کا نوٹیفکیشن جاری ہو سکے اور وہ ان مراعات کے حق دار بن سکیں جو قانونی طور ان کا حق بنتا ہے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئی ایم ایف کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں کسی صورت شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا مگر جب حکومت اور پارلیمنٹ اس سلسلے میں کوئی فیصلہ کرے گی تو الیکشن کمیشن بھی مجبور ہو جائے گا کیونکہ وہ بھی قانون کا پابند ہے۔ حکومت کے لا ڈویژن نے بھی آئی ایم ایف کو بتایا ہے کہ حکومت نے اب تک ان ترامیم کی حمایت نہیں کی ہے جنھیں پیپلز پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی سید نوید قمر اور شازیہ مری نے متعارف کرایا تھا جو نجی قانون سازی کے تحت ہوا تھا۔ واضح رہے کہ بعد میں قومی اسمبلی میں الیکشنز ایکٹ 2017 میں ترامیم کے حق میں مسلم لیگ (ن) نے بھی ووٹ دیا تھا تاکہ قانون سازوں کے اثاثوں اور واجبات کو عوام سے خفیہ رکھا جا سکے۔ آئی ایم ایف کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سینیٹ نے اب تک ان ترامیم کی منظوری نہیں دی جس کی وجہ سے یہ ترامیم قانون کا حصہ نہیں بن سکی ہیں۔واضح رہے کہ الیکشن کمیشن منتخب ارکان کے فراہم کردہ اثاثوں کی تفصیلات میڈیا کو فراہم کرتا ہے تو انھیں پڑھنے والے عوام ہنستے ہیں اور سر پکڑ لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں اتنے غریب ارکان پارلیمنٹ، وزیر اور وزیر اعظم بھی موجود ہیں جن کے اپنے نام پر کوئی گھر ہے نہ گاڑی اور وہ جس گھر میں رہتے ہیں یا گاڑی استعمال کرتے ہیں وہ ان کی اپنی نہیں بلکہ بیوی، بیٹوں، بیٹیوں، بھائیوں و عزیزوں کے نام ہیں جنھیں وہ اپنے ذاتی اثاثوں میں ظاہر کرنے کے پابند نہیں۔ ارکان پارلیمنٹ اور منتخب ارکان اسمبلی کی حیثیت سے انھیں حکومت مراعات دیتی ہے جو سرکاری ہوتی ہیں اور ان سرکاری مراعات کا جن میں گھر، گاڑیاں و دیگر سہولتیں ہوتی ہیں ان کا وزیر اعظم، وزیر، مشیر، اسپیکرز، چیئرمین سینیٹ اور قائمہ کمیٹیوں کے ارکان بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ہر رکن پارلیمنٹ اور اسمبلی وزیر و مشیر بننا چاہتا ہے مگر قانونی طور پر ایسا ممکن نہیں ہے پھر بھی ہر حکومت اپنوں کو نوازنے کی کوشش کرتی ہے اور وہ اپنے تمام حامیوں کو نہیں نواز سکتی پھر بھی اپنوں کو سرکاری مراعات فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے تاکہ کوئی ناراض نہ ہو۔ پاکستان میں تو یہ بھی ہوا ہے کہ بلوچستان میں صرف ایک رکن اپوزیشن میں تھا اور باقی تمام ارکان مختلف حیثیتوں میں حکومت میں شامل تھے۔اٹھارہویں ترمیم میں یہ پابندی لگائی گئی تھی کہ اسمبلیوں کے ارکان کی تعداد سے کابینہ بنے گی مگر پھر بھی اس قانون پر عمل نہیں ہوا۔ ہر حکومت نے اپنوں کو مختلف عہدے دے کر مالی فوائد پہنچائے۔ ایمانداری کے دعویدار پی ٹی آئی کے وزیر اعظم نے جو خود پہلی مرتبہ اقتدار میں آئے تھے انھوں نے اپنے عزیزوں کو نوازنے میں کسر نہیں چھوڑی تھی بلکہ غیر ممالک سے بھی اپنے دوستوں کو ہلا کر حکومتی عہدے دیے تھے۔پیپلز پارٹی اپنے حامیوں کو نوازنے کا دیگر پارٹیوں سے زیادہ نوازنے کا ریکارڈ رکھتی ہے۔ اثاثے خفیہ رکھنے کی ترمیم بھی پی پی ارکان نے کرائی تھی تاکہ عوام کو ان کے اثاثوں کا پتا نہ چل سکے۔ سرکاری مراعات تو اثاثوں میں ظاہر نہیں ہوتیں اس لیے ذاتی دولت گھر، سونا، گاڑیاں، ذاتی اثاثے ہوتے ہیں مگر اکثر ارکان ذاتی اثاثے بھی اپنے ظاہر نہیں کرتے کہ نیب کی پکڑ میں نہ آ جائیں۔ کیسے ممکن ہے کہ کسی رکن پارلیمنٹ و اسمبلی کے پاس اپنا گھر اور گاڑی نہ ہو مگر وہ ظاہر نہیں کیے جاتے اور وہ بھی عوام سے چھپانے کے لیے ترمیم منظور کرائی گئی جس پر آئی ایم ایف نے بھی اعتراض کیا ہے جو بالکل جائز ہے۔ عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے منتخب نمایندے کے پاس کتنا مال تھا اور منتخب ہو کر اس کے پاس کتنا مال آ گیا مگر پوچھنے کا عوام کو حق نہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل