Tuesday, March 17, 2026
 

کراچی میں بلوچستان لبریشن آرمی کے خلاف سی ٹی ڈی کی بڑی کامیابی

 



شاہ لطیف ٹاؤن ملیر میں 17 فروری کو ہلاک دہشت گرد بی ایل اے کا اہم کمانڈر نکلا۔ تفصیلات کے مطابق 17 فروری کے آپریشن میں سی ٹی ڈی نے پہلے سے گرفتار دہشت گردوں سے حاصل معلومات پر مشتبہ ٹھکانے کا محاصرہ کیا، دوران آپریشن دہشت گردوں سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، چار انتہائی مطلوب دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ حکام سی ٹی ڈی نے بتایا کہ ہلاک دہشت گردوں میں سے تین کی فوری شناخت ہو گئی، چوتھا دہشت گرد نامعلوم رہا، بعدازاں انٹیلی جنس تحقیق کے بعد ہلاک دہشت گرد کی شناخت کر لی گئی۔ ہلاک دہشت گرد کالعدم بی ایل اے کے الفتح اسکواڈ کا اہم کمانڈر سہیل بلوچ عرف “گرک” تھا۔ سہیل بلوچ عرف گرک فتنہ الہندوستان کا بدنام دہشت گرد تھا۔ سہیل بلوچ پہلے بلوچ لبریشن فرنٹ سے وابستہ رہا، 2022 میں بی ایل اے میں شامل ہوا اور اہم کمانڈر کے طور پر سرگرم رہا۔ دہشت گرد سہیل بلوچ متعدد بڑی دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھا۔ دہشت گردوں کی رابطہ کاری اور اسلحہ و لاجسٹک معاونت فراہم کرنا بھی سہیل بلوچ کی ذمہ داریوں میں شامل تھا۔ خضدار میں ڈپٹی کمشنر پنجگور زاکر بلوچ کی ٹارگٹ کلنگ میں بھی دہشت گرد سہیل بلوچ ملوث تھا۔ بی ایل اے کمانڈر سہیل بلوچ مختلف دہشت گرد حملوں میں 50 سے زائد سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کے قتل میں ملوث تھا۔ سہیل بلوچ بولان ایریا میں الفتح اسکواڈ کا کمانڈر تھا، رحمان گل، ملا امین اور ڈاکٹر مکھو کے ساتھ براہ راست رابطے میں تھا، جعفر ایکسپریس حملے کے لیے پانچ خودکش بمبار بھی سہیل بلوچ نے بھیجے تھے۔ دہشت گرد سہیل بلوچ سڑکوں پر ناکے لگا کر لوٹ مار کی کارروائیوں میں بھی ملوث رہا۔ سہیل بلوچ کی ہلاکت بی ایل اے کے دہشت گرد نیٹ ورک کے لیے بڑا دھچکا ہے۔ اس کارروائی سے کراچی میں ممکنہ بڑے دہشت گرد حملے کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل