Loading
سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کو ہائیکورٹ کے فیصلے میں سخت جملوں کو ہذف کرنے کے لیے اپیل دائر کرنے کی اجازت دے دی۔
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس محمد شفیع صدیقی پر مشتمل بینچ کے روبرو ایم کیو ایم کی ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف موقف پیش کرنے اور سخت جملوں کو ہذف کرنے سے متعلق اپیل کی سماعت ہوئی۔
ایم کیو ایم کی جانب سے بیرسٹر فروغ نسیم، حسان صابر ایڈووکیٹ اور نعیم صدیقی ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔
وکلا نے موقف اپنایا کہ ہائیکورٹ نے فیصلے میں ایم کیو ایم کے لیے سخت جملے استعمال کیے لہٰذا ایم کیو ایم کو اجازت دی جائے کہ وہ اپنا موقف عدالت عظمیٰ کے سامنے رکھ سکے۔
عدالت عظمیٰ نے ایم کیو ایم کو ہائیکورٹ کے فیصلے میں سخت جملوں کو ہذف کرنے کے لیے اپیل دائر کرنے کی اجازت دے دی۔
ایم کیو ایم پاکستان نے درخواست میں موقف اپنایا تھا کہ ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ایم کیو ایم دہشتگردی کے واقعات میں شامل ہے اور اپنے ہی رہنماؤں کے قتل میں ملوث ہے۔ عدالت عظمیٰ سے استدعا ہے کہ ہائیکورٹ کے فیصلے سے سخت جملوں کو ہذف کیا جائے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل