Loading
عید کے بعد عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک شروع کرنے کے معاملے پر پی ٹی آئی کے اندر کارکنوں کو متحرک کرنے کا سوال اہم چیلنج بن گیا ہے جبکہ پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت اس حوالے سے تذبذب کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔
ذرائع پی ٹی آئی کے مطابق پنجاب میں پہلے ہی تتر بتر تنظیم کو دوبارہ فعال بنانا ایک بڑا چیلنج ہوگا، کیوں کہ مرکزی قیادت کی ہدایات کے باوجود صوبے کے عہدیداران غیر فعال ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ اور سینٹرل پنجاب کے صدر سزا کے باعث روپوش ہیں جبکہ لاہور کے صدر کسی سے رابطہ ہی نہیں کرتے، جس کے باعث تنظیمی ڈھانچہ مزید کمزور ہو چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق پنجاب میں کارکن پہلے ہی گرفتاریوں اور چھاپوں کے باعث خوفزدہ ہیں، اس وجہ سے انہیں دوبارہ متحرک کرنا آسان نہیں ہوگا۔ مزید یہ کہ ارکان اسمبلی کو ہر ہفتے اسلام آباد جانا پڑتا ہے، ایسے میں وہ تنظیم کو متحرک کرنے کے لیے وقت اور وسائل کیسے نکالیں گے، یہ بھی ایک بڑا سوال ہے۔
پارٹی رہنماؤں کے مطابق خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، اس لیے وہاں کے حالات پنجاب سے مختلف ہیں، جبکہ رکن اسمبلی وقاص مان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے کچھ لوگ ملک سے باہر بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں، انہیں چاہیے کہ خود آ کر لوگوں کو اکٹھا کریں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل