Loading
حکومت نے بین الاقوامی تجارت کو شفاف، محفوظ اور موثر بنانے اور بے قاعدگیاں روکنے کے لیے کارگو کی تفصیلات میں ایچ ایس کوڈ، اشیا کی وضاحت اور مقدار کو لازمی قرار دے دیا ہے اور بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو کی منتقلی کو سو فیصد اسکیننگ سے شروط کردیا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے جاری کردہ بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ رولز میں مترامیم کے نفاذ کے نوٹی فکیشن میں بتایا گیا ہے کہ گراؤنڈ ہینڈلنگ ایجنٹس اور آف ڈاک ٹرمینلز کو بھی اس نظام میں باقاعدہ شامل کردیا گیا ہے، کارگو کی نقل و حرکت کے دوران کسٹمز سیل، اسکیننگ اور معائنے کے عمل کو مزید سخت کردیا ہے جبکہ سنگین خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ شپنگ لائن یا ایئرلائن کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی جس کیلئے بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ رولز میں ترامیم کردی ہیں۔
نئے قواعد کے مطابق کنٹینرائزڈ اور ایل سی ایل کارگو کی ترسیل کے طریقہ کار میں تبدیلیاں کی گئی ہیں جس کے تحت مختلف آپریٹرز جیسے ٹرمینل آپریٹرز، آف ڈاک ٹرمینلز اور گراؤنڈ ہینڈلنگ ایجنٹس کے کردار کو واضح کیا گیا ہے اس کے علاوہ، کارگو کی نقل و حرکت کے دوران کسٹمز سیل، اسکیننگ اور معائنہ کے عمل کو مزید سخت بنایا گیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کو روکا جا سکے۔
ترامیم میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو کو 100 فیصد اسکیننگ کے بعد ہی منتقل کیا جائے گا اور اگر اسکیننگ کے دوران کسی قسم کا فرق پایا گیا تو مکمل جسمانی معائنہ کیا جائے گا سنگین خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ شپنگ لائن یا ایئرلائن کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی مزید یہ کہ کارگو کی حفاظت اور درست معلومات فراہم کرنے کی ذمہ داری شپنگ لائنز، ایئرلائنز اور متعلقہ آپریٹرز پر عائد کی گئی ہے کسی بھی قسم کی چوری، غلط بیانی یا رد و بدل کی صورت میں ڈیوٹی اور ٹیکس کی ادائیگی کے ساتھ دیگر قانونی ذمہ داریاں بھی انہی اداروں پر عائد ہوں گی۔
ایف بی آر نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر کسی آف ڈاک ٹرمینل یا گراؤنڈ ہینڈلنگ ایجنٹ کی کارکردگی میں خامیاں پائی گئیں یا وہ قواعد کی خلاف ورزی میں ملوث پایا گیا تو متعلقہ چیف کلیکٹر کو اختیار ہوگا کہ وہ ٹرانس شپمنٹ کارگو کی نقل و حرکت کو معطل کرسکے اس کے ساتھ ساتھ تمام متعلقہ اداروں کو ہر ماہ کارگو کی تفصیلی رپورٹ بھی جمع کروانا ہوگی۔
ایف بی آر کا کہا ہے کہ ان ترامیم کا مقصد بین الاقوامی تجارت کو شفاف، محفوظ اور موثر بنانا ہے تاکہ پاکستان کے کسٹمز نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جاسکے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل