Friday, March 20, 2026
 

پاکستان ایک عظیم ملک ہے جس سے آیت اللہ خامنہ ای کو خاص لگاؤ تھا؛ ایرانی سپریم لیڈر

 



نو روز کے موقع پر ایران کے نئے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کا 9 صفحات پر مشتمل ایک تحریری پیغام سرکاری ٹی وی پر پڑھ کر سنایا گیا جس میں انھوں نے کہا کہ ہم نے روزے اور جہاد کو ایک ساتھ جاری رکھا، اللہ کا شکر ہے دشمن ٹوٹ چکا ہے۔ بی بی سی کے مطابق ایران کے تیسرے رہبر اعلی مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پیغام میں کہا کہ اسرائیل نے ایران اور اس کے پڑوسی ممالک کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کی چال چلی ہے۔ خامنہ ای نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی طرف سے ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس کا مقصد مسلمانوں کے درمیان تقسیم کو ختم کرنا ہے۔ جنگ کے دوران پڑوسی ممالک پر ہونے والے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے وضاحت دی کہ ایرانی مسلح افواج نے ہمسائیہ ممالک ترکیہ اور عمان پر حملے نہیں کیے، یہ اسرائیل کی سازش ہے۔ انھوں نے پاکستانیوں کو عید کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے مشرقی پڑوسیوں کو بہت قریب سے سمجھتا ہے۔ خاص طور پر پاکستان سے ان کے والد شہید آیت اللہ خامنہ ای کو خاص لگاؤ تھا۔ مجتبیٰ خامنہ ای کا مزید کہنا تھا کہ ایران نے ایک سال میں تین جنگوں سے گزر چکا ہے۔ گزشتہ برس جون میں حملے، دسمبر میں بیرون ملک کی ایما پر ملک گیر مظاہرے اور تیسری موجودہ جنگ ہے۔ ایرانی رہبر اعلیٰ مجتبی خامنہ ای نے اپنے والد کے اسرائیلی حملے میں ہلاکت کو ’ عظیم شہادت‘ قرار دیتے ہوئے اس سال کے کے لیے ’قومی یکجہتی اور قومی سلامتی کے سائے میں مزاحمتی معیشت‘ کا نعرہ بھی دیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ جنگ میں قوم کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ ہمارا اتحاد دشمن کو جھکنے پر مجبور کردے گا۔ یاد رہے کہ یہ انداز ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کے روایتی نوروز پیغامات سے واضح طور پر مختلف ہے جو ہمیشہ کیمرے کے سامنے پیغام دیا کرتے تھے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کو اس ماہ کے آغاز میں اپنے والد کا جانشین منتخب کیا گیا تھا۔ وہ اب تک نہ تو عوام کے سامنے آئے ہیں اور نہ ہی انھیں فلمایا یا فوٹوگراف کیا گیا ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل