Loading
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تیل کی سپلائی میں نمایاں کمی کے باعث خام تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
بی بی سی سے گفتگو میں بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ دنیا اس وقت تاریخ کے سب سے بڑے عالمی توانائی تحفظ کے چیلنج کا سامنا کر رہی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال نہ صرف توانائی کی فراہمی بلکہ عالمی اقتصادی استحکام کے لیے بھی بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
ان کے بقول خام تیل کی قیمت فی بیرل قیمت اب بھی 109 ڈالر کے آس پاس منڈلا رہی ہے جس سے عالمی معیشت پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز میں ایرانی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے نیٹو اتحادی ممالک کے عدم تعاون پر صدر ٹرمپ برہم نظر آئے۔
انھوں نے اپنے بیان میں نیٹو اتحادی ممالک کو بزدل اور کاغذی شیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کے لیے آبنائے ہرمز سے ایرانی فورسز کو ہٹانا آسان کام ہے لیکن وہ گریز کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ہے خصوصاً آبنائے ہرمز کی بندش نے صورتحال کو مزیدہ پیچیدہ کردیا ہے۔
یہ وہ آبی گذر گاہ ہے جہاں سے دنیا بھر میں تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس اہم گزرگاہ میں کسی بھی رکاوٹ یا خطرے سے فوری طور پر عالمی منڈی متاثر ہوتی ہے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر تیل کی قیمتیں اسی سطح پر برقرار رہیں یا مزید بڑھیں تو اس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت بڑھے گی اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل