Loading
بھارت کی بدنام زمانہ جیل میں 2017 سے بے گناہ قید مقبوضہ کشمیر کی تنظیم دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرانی کے متنازع کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی کی ایک عدالت نے مقبوضہ کشمیر کی تنظیم ’دخترانِ ملت‘ کی سربراہ سیدہ آسیہ اندرابی اور اُن کی دو ساتھیوں صوفی فہمیدہ اور ناہیدہ نسرین کو انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت سزائیں سنائیں۔
بھارتی تحقیقتی ایجنسی کے مطابق گذشتہ برسوں کے دوران مختلف پولیس تھانوں میں آسیہ اندرابی کے خلاف 33، صوفی فہمیدہ کے خلاف 9 اور ناہیدہ نسرین کے خلاف 5 مقدمے درج کیے گئے ہیں۔
تاہم دہلی کی عدالت نے ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے اور سازش رچانے کے الزامات میں تینوں خواتین رہنماؤں کو مجرم قرار دیا تھا۔ 65 سالہ آسیہ اندرابی کو عمر قید جبکہ 41 سالہ صوفی فہمیدہ اور 59 سالہ ناہیدہ نسرین کو تیس تیس سال قید کی سزا سنائی گئی۔
یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے کی سماعت میں بھارت کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے نے عدالت سے تینوں خواتین کو عمر قید کی سزا دینے کی سفارش کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمر قید سے کم سزا پر عوام کا قانون پر سے اعتبار کم ہوجائے گا۔
اس موقع پر آسیہ اندرابی اور ان کی ساتھیوں کے وکیل شارق اقبال نے دلائل دیئے تھے کہ ایجنسی کی طرف سے فراہم کردہ ثبوت ناکافی ہیں بلکہ یہ بدنیتی پر مبنی دکھائی دیتے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہ خواتین اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور اپنے گھر سے 800 کلومیٹر دور تقریباً 8 سال سے قید میں ہیں جس کے باعث تینوں خواتین کئی عارضوں میں بھی مبتلا ہوگئی ہیں۔
خیال رہے کہ آسیہ اندرابی ایم اے عربی ادب ہیں جب کہ ناہیدہ زولوجی اور اسلامک اسٹڈیز میں ایم اے کی ڈگری رکھتی ہیں جبکہ صوفی فہمیدہ گریجویٹ ہیں۔
یاد رہے کہ چارج شیٹ میں آسیہ اندرابی پر لشکر طیبہ کے بانی حافظ سعید سے رابطے اور تقریروں میں تشدد کو فروغ دینے کے الزامات تھے۔ جس میں انھوں نے نوجوانوں کو اسلحہ اٹھانے پر اکسایا تھا۔
دونوں جانب کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے 24 مارچ کو فیصلہ سنانے کا اعلان کیا تھا۔
واضح رہے کہ آسیہ اندرابی ہر 14 اگست کو یوم آزادی کے موقع پر پاکستانی پرچم لہراتی تھیں جو مودی سرکار کو ایک آنکھ نہ بھاتا تھا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل