Loading
لبنان کے جنوبی علاقے جزین میں اسرائیلی فوج نے ایک ایسی گاڑی کو بھی نشانہ بنایا جس پر واضح انداز میں پریس لکھا ہوا تھا۔
خبر رساں اداروں اے ایف پی اور رائٹرز کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے جنوبی لبنان کے علاقے میں پریس کی گاڑی کو نشانہ بنایا جس میں عربی چینل المیادین کی خاتون صحافی فاطمہ فتونی اور المنار ٹی وی کے سینئر رپورٹر علی شعیب شہید ہوگئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پریس کی اس گاڑی میں دیگر افراد بھی موجود تھے جن میں خاتون صحافی فاطمہ فتونی کے بھائی بھی شامل تھے۔
المیادین کے مطابق اسرائیلی فورسز نے گاڑی کو دانستہ طور پر 4 گائیڈڈ میزائلوں سے نشانہ بنایا اور جب امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچیں تو انھیں بھی نشانہ بنایا گیا جس میں ایک پیرامیڈک بھی جاں بحق ہوگیا۔
لبنان کے صدر جوزف عون نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور جنگی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو عالمی قوانین کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ انھیں نشانہ بنانا سنگین جرم ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے صحافی علی شعیب کے فضائی حملے میں مارے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ حزب اللہ کے رضوان فورس کے انٹیلی جنس یونٹ سے وابستہ تھے اور اسرائیلی فوجی تنصیبات کی معلومات فراہم کرتے تھے۔
تاہم لبنان اور میڈیا تنظیموں نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے صحافت پر حملہ قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CPJ) کے مطابق گزشتہ برسں دنیا بھر میں ہلاک ہونے والے صحافیوں کی بڑی تعداد اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہوئی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل