Sunday, March 29, 2026
 

قومی فٹبال ٹیم مکمل تیاری کے ساتھ میدان میں اترنے کو تیار

 



پاکستان فٹبال ٹیم کے کھلاڑی محب اللہ اور وقار نے میانمار کے خلاف شیڈول اہم میچ سے قبل بھرپور خوداعتمادی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی ٹیم پہلے سے کہیں زیادہ بہتر تیاری اور ہم آہنگی کے ساتھ میدان میں اترنے کے لیے تیار ہے۔  میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وقار کا کہنا تھا کہ اس بار ٹیم کی تیاری ماضی کے مقابلے میں زیادہ جامع اور مؤثر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں پر مکمل یقین ہے اور امید ہے کہ ٹیم شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے فتح حاصل کرے گی۔ دوسری جانب محب اللہ کا کہنا تھا کہ کوشش ہوگی کہ ماضی کے مقابلے میں مزید بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔ٹیم میں پائی جانے والی اس امید کی بڑی وجہ وہ تربیتی کیمپ ہے جس میں کھیل کے تمام شعبوں میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔ محب اللہ نے ٹیم کی پیشرفت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ کھلاڑیوں نے کوچنگ اسٹاف کے وضع کردہ پلان پر مثبت ردعمل دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تیاری بہت اچھے انداز میں جاری ہے اور تمام لڑکے بہترین رسپانس دے رہے ہیں جو کیمپ کے اندر ایک پرعزم ماحول کی نشاندہی کرتا ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حال ہی میں مضبوط حریفوں کے خلاف کھیلے گئے میچز نے ٹیم کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔  محب اللہ کے مطابق مسلسل تجربے اور کھیل کے میدان میں گزارے گئے وقت نے کھلاڑیوں کے درمیان تال میل اور سمجھ بوجھ کو بہتر بنایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر کیمپ کے ساتھ ہم میں بہتری آرہی ہے، ہمیں کھیل کا اچھا تجربہ مل رہا ہےاور ٹیم میانمار کے خلاف اپنے معیار کو مزید بلند کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس تبدیلی میں ہیڈ کوچ شہزاد انور سولانو کا کردار مرکزی رہا ہے۔ وقار نے کوچ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ٹیم میں پیشہ ورانہ مہارت اور اظہارِ رائے کی آزادی کا ایک متوازن امتزاج پیدا کیا ہے۔ وقار نے بتایا کہ وہ ہمیں ایک دوستانہ اور پرسکون ماحول دے رہے ہیں اور ہمیں کھیل سے لطف اندوز ہونے کی ترغیب دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوچ کا مقامی ٹیلنٹ پر بھروسہ کرنے کا فیصلہ ٹیم میں نئی توانائی لے آیا ہے اور مقامی مقابلوں سے منتخب ہونے والے کھلاڑیوں نے بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتیں ثابت کرنے کے اس موقع کو بھرپور طریقے سے اپنایا ہے۔ وقار نے تربیتی معیار کو بھی سراہا۔ ان کے بقول مشقوں کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ اس سے کھلاڑیوں کے تادیبی نظم و نسق اور اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ فٹنس کے حوالے سے ٹرینر رایان عباسی کے کردار کو سراہتے ہوئے وقار نے سکواڈ کی موجودہ حالت کو شاندار قرار دیا۔ کئی سینئر اور غیر ملکی (اوورسیز) کھلاڑیوں کی عدم موجودگی کے باوجود محب اللہ نے اسکواڈ کی کیمسٹری پر اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر کھلاڑی پہلے بھی ساتھ کھیل چکے ہیں جس سے ٹیم میں تسلسل برقرار ہے۔ نوجوان کھلاڑیوں نے بھی سسٹم کے ساتھ جلد ہم آہنگی پیدا کر لی ہے۔ محب اللہ نے شائقین کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خالی اسٹیڈیم میں کھیلنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ فٹ بال شائقین کے جوش و خروش کا کھیل ہے تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ ٹیم میدان میں اپنی بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے پرعزم ہے۔ وقار نے شام اور افغانستان جیسی مسابقتی ٹیموں کے خلاف پاکستان کی حالیہ کارکردگی کو حوصلہ افزا قرار دیا اور اس امید ظاہر کی کہ اس بار ہماری تیاری مزید بہتر ہے اور ہم یہ میچ جیتنے کی پوری کوشش کریں گے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل