Loading
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ چند روز قبل بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفتگو کو وفاقی حکومت نے بلاوجہ تنازعہ بنانے کی کوشش کی، اس گفتگو کا اردو ترجمہ بھی کروایا گیا تاکہ حقیقت سامنے آسکے، یہ ایک بیٹے کا اپنے والد کے لیے فطری جذبہ اور تشویش کا اظہار تھا جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ایک عام گفتگو کو جی ایس پی پلس کے ساتھ جوڑ کر غلط بیانی کی جا رہی ہے جبکہ جی ایس پی پلس یورپی یونین کے ساتھ ایک باقاعدہ معاہدہ ہے، قاسم خان کی گفتگو کو بھی سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، اصل مسئلہ پاکستان میں جمہوریت کی صورتحال ہے جہاں گزشتہ کئی دہائیوں سے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا گیا، آٹھ فروری کے انتخابات میں ووٹ چوری جمہوریت پر حملہ تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام نے واضح مینڈیٹ دیا مگر خیبرپختونخوا کے علاوہ دیگر جگہوں پر جعلی حکومت مسلط کی گئی، اگر جی ایس پی پلس سے پاکستان کو نکالا جاتا ہے تو اس کی ذمہ دار وفاقی حکومت کی پالیسیاں ہوں گی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملک میں جمہوری آزادیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، صحافیوں کو دبایا جا رہا ہے اور اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں، اظہار رائے ہر شہری کا بنیادی حق ہے مگر موجودہ حالات میں اس حق کو محدود کیا جا رہا ہے۔
سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ کی صحت سے متعلق تشویش کا اظہار بھی کیا۔
ماحولیاتی حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا نے شجرکاری میں نمایاں کردار ادا کیا جبکہ وفاقی حکومت ماحولیاتی تحفظ میں ناکام رہی، کرپشن اور معاشی بدانتظامی کے باعث ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے اور اگر صنعتیں فعال ہوتیں تو تجارتی خسارہ کم ہو سکتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ وفاقی حکومت معیشت کو قرضوں پر چلا رہی ہے، عمران خان کو ناحق قید میں رکھا گیا ہے، بانی کی اہلیہ کے ساتھ بھی غیر انسانی سلوک کرنے کی اطلاع ہے، بانی کی اہلیہ کی صحت کے حوالے سے بھی خدشات ہیں، موجودہ حکومت ہر وہ کام کر رہی ہے انسانی حقوق کے خلاف ہے، خیبر پختون خوا کا 45 فیصد اس وقت گرین ایریا ہے جبکہ جعلی حکومت والے جنگلات کو کاٹ کر رہائی سوسائٹی بنا رہے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل