Monday, March 30, 2026
 

ایران پر جوہری حملے کی تیاری؟ اقوام متحدہ سے وابستہ سفارتکار کے دعویٰ نے تہلکہ مچا دیا

 



اقوامِ متحدہ سے منسلک ایک مبینہ سفارتکار کے مستعفی ہونے اور حساس معلومات لیک کرنے کے دعوے نے عالمی سطح پر ہلچل مچا دی ہے۔ غیر مصدقہ رپورٹس کے مطابق اس سفارتکار نے الزام عائد کیا ہے کہ اقوام متحدہ ایران کے خلاف ممکنہ طور پر جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے خدشات کے پیش نظر تیاریوں کا جائزہ لے رہا ہے۔ لیک کرنے والے اہلکار نے اپنے بیان میں کہا کہ دنیا اس صورتحال کی سنگینی کو نہیں سمجھ رہی، اور اگر کسی بڑے شہر جیسے تہران پر جوہری حملہ کیا گیا تو اس کے تباہ کن انسانی نتائج ہوں گے۔ Diplomat RESIGNS after LEAKING UN prepping for possible nuclear strike on Iran 'People do not understand the gravity… NUKING 10M — REGULAR working-class people with DREAMS!' 'Only the people can stop it, ACT NOW' 'HISTORY WILL REMEMBER US' pic.twitter.com/9wpNSgGVdH — RT (@RT_com) March 30, 2026 اس نے زور دیا کہ تہران جیسے شہر میں تقریباً ایک کروڑ کے قریب آبادی رہتی ہے، جہاں عام شہری، خاندان اور بچے زندگی گزار رہے ہیں۔ مبینہ سفارتکار کے مطابق اس نے اس ممکنہ ’انسانیت کے خلاف جرم‘ کا حصہ بننے سے انکار کرتے ہوئے اپنی ملازمت چھوڑ دی اور یہ معلومات دنیا کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا تاکہ کسی بڑے سانحے کو روکا جا سکے۔ اس نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور جنگ کے خطرے کو روکنے کے لیے اقدامات کرے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکا میں حالیہ احتجاجی مظاہروں میں لاکھوں افراد نے جنگی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھائی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام کی بڑی تعداد ممکنہ تصادم اور جوہری خطرات پر تشویش رکھتی ہے۔ I don't think people understand the gravity of the situation as the UN is preparing for possible nuclear weapon use in Iran. This is a picture of Tehran. For you uneducated, untraveled, never-served, warhawks licking your chops at the thought of bombing it. It's not some low… pic.twitter.com/BnzB4F3001 — Mohamad Safa (@mhdksafa) March 29, 2026 تاہم اس حوالے سے کسی بھی سرکاری یا مستند ذریعے نے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی، اور نہ ہی اقوام متحدہ کی جانب سے ایسی کسی تیاری کی باضابطہ توثیق سامنے آئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے دعووں کو احتیاط سے دیکھنا چاہیے اور مستند ذرائع سے تصدیق ضروری ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل