Loading
وفاقی حکومت نے کشیدہ صورت حال کے پیش نظر ملک میں توانائی کے ممکنہ بحران سے نمنٹنے کیلیے اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر قائم کرنے کا اصولی فیصلہ کیا اور متعلقہ حکام کو اس حوالے سے باقاعدہ فریم ورک تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیرخزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں ملک میں ایندھن کی دستیابی، درآمدی حکمتِ عملی اور عالمی منڈی کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ موجودہ حالات میں ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی فراہمی مستحکم ہے جہاں ڈیزل کے 23 سے 24 دن کے کافی ذخائر موجود ہیں جبکہ پیٹرول کی دستیابی بھی تسلی بخش ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ خام تیل کے تقریباً 11 دن کے لیے ذخائر موجود ہیں اور مزید کھیپ راستے میں ہیں، جن سے اپریل تک ریفائنریوں کی ضروریات پوری ہوتی رہیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اپریل کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی درآمدی منصوبہ بندی فعال انداز میں جاری ہے اور بڑی مقدار میں سپلائی پہلے ہی مختلف تجارتی اور حکومتی معاہدوں کے تحت حاصل کی جا چکی ہے جبکہ ریفائنریوں کو مکمل استعداد کے ساتھ چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ خام تیل کو زیادہ سے زیادہ ریفائن کر کے ملکی طلب پوری کی جا سکے۔
اجلاس میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور غیر یقینی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا، جس کے باعث پٹرول اور ڈیزل کی درآمدی لاگت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ تیل کی خریداری میں دانشمندانہ فیصلے کیے جائیں تاکہ کم لاگت والے ذرائع کو ترجیح دی جا سکے، جبکہ شپنگ، انشورنس اور دیگر لاجسٹک امور میں بھی شفافیت اور تجارتی اصولوں کو مدنظر رکھا جائے۔
اجلاس میں ملک میں بڑھتی ہوئی طلب پر بھی غور کیا گیا اور متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی کہ ذخیرہ اندوزی کی روک تھام اور بلا تعطل سپلائی یقینی بنانے کے لیے سخت نگرانی کی جائے۔
اجلاس میں پٹرولیم سپلائی چین کی نگرانی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے پر بھی زور دیا گیا، جس کے تحت ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے بہتر فیصلے کیے جاسکیں گے۔
اس کے علاوہ اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر قائم کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا اور متعلقہ حکام کو اس حوالے سے باقاعدہ فریم ورک تیار کرنے کی ہدایت دی گئی۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا ہے اور عالمی قیمتوں کے دباؤ کے باوجود بہتر حکمتِ عملی کے ذریعے صورتحال کو مستحکم رکھا گیا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل