Loading
دنیا بھر میں جب چاہے موقف تبدیل کرلینے والے سپر پاور امریکا کے صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران معاہدے کے لیے بھیک مانگ رہا ہے ،اس لیے میں نے ایرانی توانائی تنصیبات پر حملے 6 اپریل تک موخر کردیے ہیں۔
امریکی صدر نے 48گھنٹوں کی وارننگ کے بعد اچانک ایران کے لیے 5 روز تک جنگ بندی کا اعلان کیا تھا مگر ایران پر حملے جاری رہے تھے اور امریکا نے اسرائیل کو ایران پر حملے جاری رکھنے سے نہیں روکا تھا اور واضح کیا تھا کہ پانچ روز کے لیے امریکی حملے مکمل نہیں بلکہ ایرانی تنصیبات پر روکے تھے جن میں اب مزید توسیع کی گئی ہے جو ایران کے جارحانہ روئیے میں تبدیلی کے باعث روکے گئے ہیں۔
یہ وہی امریکی صدر ہے جنھوں نے دوبارہ اقتدار میں آکر دنیا کے مختلف ممالک کے درمیان جنگ بند کرنے کے فخریہ اعلانات کیے تھے اور اسی بنیاد پر مطالبہ کیا تھا کہ جنگ روکنے اور دنیا میں امن کی بحالی پر وہ نوبل پرائز کے حق دار ہیں ۔
اس لیے انھیں نوبل پرائز دیا جانا چاہیے مگر نوبل پرائز دینے والوں نے صدر ٹرمپ پر ایک خاتون کو ترجیح دے کر امریکی صدر کی خواہش پوری نہیں کی تھی شاید جس سے مشتعل ہوکر امریکی صدر نے غیر ضروری طور پر امریکا کو جنگ میں دھکیل دیا۔
اور امریکی صدر نے اپنی عقل استعمال کرنے کی بجائے اسرائیلی وزیراعظم کی جارحیت کو ترجیح دی جس کی فطرت میں سکون سے بیٹھنا ہے ہی نہیں اور اسے غزہ کو مکمل تباہ کراکر بھی چین نہیں آیا تھا اور اس نے گزشتہ سال ایران پر حملہ کیا تھا اور اب امریکی صدر کو بھی ایران پر حملے کے لیے آمادہ کیا اور امریکی صدر نے اسرائیل کی محبت میں اپنے ملک سے ایران پر حملے شروع کرائے حالانکہ بارہ ہزار کلو میٹر دور امریکا کا ایران سے کوئی تنازعہ نہیں تھا۔
یہ وہی امریکا ہے جس نے 80 سال پہلے خود پہل کرکے جاپان پر دو ایٹم بم برسائے تھے، حالانکہ امریکا اس وقت سپر پاور بھی نہیں تھا مگر ایٹمی طاقت تھا جس کا عملی مظاہرہ جاپان کو ایٹمی نشانہ بناکر کیا تھا۔
جاپان واحد ملک ہے جس کو ایٹم بم سے نشانہ بنایاگیا تھا جس کا ذمے دار امریکا تھا جسے صرف مسلم ممالک کی طرف سے ایٹم بم بنانے پر اعتراض تھا اور امریکا نے 1998 میں پاکستان کو ایٹمی دھماکوں سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔
مگر پاکستان نہیں مانا تھا اور بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں پاکستان کو بھی اپنی ایٹمی طاقت دکھانا پڑی تھی اور امریکا کی طرف سے پابندیاں بھی برداشت کی تھیں اور دنیا میں ایٹمی صلاحیت کا پہلا مسلم ملک بنا تھا جس کے بعد امریکا نے طے کرلیا تھا کہ وہ آیندہ کسی اور مسلم ملک کو ایٹم بم نہیں بنانے دے گا۔
امریکا کو ایران کی طرف سے خدشہ تھا کہ وہ ایٹم بم نہ بنالے ،اسی لیے ایران پر امریکا نے پابندیاں لگوائیں اور امریکا اور امریکی حواری اسرائیل نے خود ٹھیکدار بن کر طے کرلیا تھا کہ دونوں ایران کو ایٹمی قوت نہیں بننے دیں گے۔
امریکا کو 1979میں شاہ ایران کی حکومت ختم ہونے اور ایران میں آیت اﷲ خمینی کے اقتدار میں آنے کا دکھ تھا۔ آیت اﷲ خمینی نے ایران میں اسلامی حکومت قائم کی تھی اور امریکا اور اسرائیل کو ایران کی اسلامی حکومت گوارا نا تھی اور دونوں ملک ایران میں اپنی حامی حکومت بنوانے کے لیے کوشاں تھے اور یہی دو وجوہات کے باعث امریکا اور اسرائیل ایران کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔
روس کی افغانستان میں شکست اور بعد میں روس کی سپر پاور کی حیثیت امریکی سازشوں سے ختم ہوئی۔ روس تقسیم ہوا جس کے نتیجے میں امریکا کو دنیا کی واحد سپر پاور بننے کا موقع ملا تھا اور اس نے خود کو دنیا کا مالک سمجھنا شروع کردیا تھا، جس کے بعد سے امریکا من مانی کررہا تھا اور اس نے ویت نام کی شکست کو بھلاکر اور نارتھ کوریا کے آگے بے بسی کے بعد غلط الزامات میں عراق اور لیبیا پر حملے کرکے دونوں کو تباہ کرکے اپنی مرضی کی حکومتیں وہاں قائم کیں اور ایران میں رجیم تبدیلی امریکا کی اب اولین خواہش ہے۔
امریکی صدرٹرمپ نے دوبارہ اقتدار میں آکر کہا تھا کہ آیندہ امریکا کسی اور جنگ میں شامل نہیں ہوگا، پھر امریکا نے دوسری بار ایران پر حملہ کیا۔
وینزویلا میں جارحیت کی اور کئی ممالک پر قبضے کی دھمکی دی اور پھر اسرائیل کے کہنے پر ایران پر خود حملہ کیا اور انتہا یہ ہے کہ امریکی صدر نے ایران سے کہا ہے کہ وہ امریکا کو جنگ بندی پر قائل کرے۔
دنیا میں واحد سپر پاور امریکا کے تکبر اور من مانی کی اور کوئی مثال نہیں کہ وہ خوامخواہ ایران پر حملہ کرے اور ایران کو تباہ کرکے وہاں سیکڑوں ہلاکتوں اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلاکر پھر ایران سے کہے کہ وہ امریکا کو ایران پر مزید حملہ نہ کرنے پر قائل یعنی خوشامد کرے۔
ایران مجبور ہے کہ وہ برائے راست امریکا پر حملہ کر نہیں سکتا اور اسرائیل کو جواب اور امریکا سے مزاحمت کررہا ہے اور وہ اپنی تباہی کے باوجود امریکا کے آگے جھکنے کو تو کیا جنگ روکنے پر بھی تیار نہیں اور اس پر حملہ کرنے والے امریکا کی 15شرائط مسترد کرکے اپنی پانچ شرائط پیش کرچکا ہے جب کہ امریکی صدر خود ہی جنگ بند کرنے، جنگ بندی میں توسیع پر مجبور ہے مگر اپنی غلطی اور ایران سے معذرت کے بجائے ایران کو کہہ رہا ہے کہ وہ ہی امریکا کو جنگ بندی پر قائل کرے۔
کہا جاتا ہے کہ چٹ بھی اپنی پٹ بھی اپنی۔ ایران کا موقف درست ہے کہ امریکا اس کے نقصان کی تلافی اور آیندہ حملہ نہ کرنے کی گارنٹی دے مگر دنیا میں امریکا کے متبادل دوسری طاقت ہی موجود نہیں جو امریکی صدر کی گارنٹی کا تصور بھی کرسکے ۔
سپر پاور امریکا وہ شیر بن گیا ہے جو چاہے بچہ دے یا انڈا اس نے اپنی انا ہی اونچی رکھنی ہے اور اسرائیل کے سوا کسی کی نہیں ماننی۔
خود امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نے امریکی صدر کو غلط اطلاعات دے کر امریکا سے ایران پر حملہ کرایا۔
امریکی صدر میں اتنی اخلاقی جرات بھی نہیں کہ وہ اپنی جارحیت مانے اور خود ہی غیر مشروط طور جنگ بند اور ایران کو مطمئن کرے۔
خلیج فارس میں لڑی جانے والی جنگ جو رخ اختیار کر رہی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا اس جنگ کو ادھورا چھوڑ کر چلا جائے گا ۔اگر ایسا ہوا تو پھر خلیج میں کیا صورت حال ہو گی اس کے بارے میں کوئی رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔
امریکا اور اسرائیل ایران پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہیں۔ایرا ن بھی جوابی میزائل داغ رہا ہے۔ ادھر امریکا اور مغربی ممالک میں صدر ٹرمپ کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں ۔ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی آ رہی ہے۔
آنے والے وقت میں عالمی سطح پر کساد بازاری بھی بڑھ سکتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ تیل کا بحران بھی لمبا ہو سکتا ہے۔ دنیا کی طاقتور اقوام کو اس معاملے میں خاموش تماشائی بننے کی بجائے عملی اقدامات کر کے اس جنگ کو ختم کرانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل