Tuesday, March 31, 2026
 

حکمت اور دانائی (آخری قسط)

 



بلاشبہ حکمت اور دانائی کے خزانے کسی انسان سے نہیں قرآن سے ملتے ہیں۔ منفرد نثر نگار اور معروف کالم نگار جناب ہارون الرشید نے کئی بار اپنے کالموں میں ذکر کیا ہے کہ وہ جب بھائی جان جسٹس (ر) افتخار احمد چیمہ صاحب سے ملے تو انھوں نے بتایا کہ بیرسٹری کی تعلیم کے دوران لنکنزاِن میں ان کے انگریز استاد کہا کرتے تھے کہ ’’قانونِ وراثت ہم نے قرآن سے سیکھا ہے اور ویلفیئر اسٹیٹ کا تصوّر ہم نے عمرؓ دی گریٹ سے لیا ہے‘‘ جب وراثت کی آیات نازل ہوئیں تو نبی کریمؐ کے بڑے سے بڑے دشمن بھی اعلانیہ کہنے لگے کہ اتنا پیچیدہ اور انصاف پر مبنی قانون، صرف مکّہ کا کوئی انسان ہی نہیں بلکہ پورے عرب کا کوئی پڑھا لکھا شخص بھی نہیں بنا سکتا۔ کنبے اور خاندان کے ہر فرد کا حصہ اس طرح مقرّر کردیا گیا کہ سننے اور پڑھنے والے حیران وششدر رہ گئے۔ کئی فراخدل عیسائی پادریوں نے یہ کہہ کر نظریۂ حق تسلیم کیا کہ وراثت کی آیات ہی قرآن کو کلامِ الٰہی ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔ وراثت کی تقسیم، یتیموں کے حقوق اور نکاح کے معاملے میں محرّمات کا ذکر قرآن کی سورۃ النساء آیات میں ہے، جو حکمت اور دانائی کی تابدار کرنیں ہیں۔ مولانا مودودیؒ اور ڈاکٹر اسرار احمد ؒ نے اپنی تفاسیر میں سورۃ النساء کا تعارف کرایا ہے۔ دونوں کا کہنا ہے کہ سورۂ النساء کے ان خطبوں میں بتایا گیا ہے کہ مسلمان اپنی اجتماعی زندگی کو اسلام کے طریق پر کس طرح درست کریں، یہاں خاندان کی تنظیم کے اصول بتائے گئے، نکاح پر پابندیاں عائد کی گئیں، معاشرت میں عورت اور مرد کے تعلقات کی حد بندی کی گئی، یتیموں کے حقوق متعین کیے گئے، وراثت کی تقسیم کا ضابطہ مقرر کیا گیا اور معاشی معاملات کی درستی کے متعلق ہدایات دی گئی ہیں۔ سورۃ النساء کا آغاز ہی اس طرح کیا گیا ہے ’’لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا۔ اس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو اور رشتہ وقرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو۔ یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کررہا ہے۔ یتیموں کے مال ان کو واپس دو، اچھے مال کو برے مال سے نہ بدل لو اور ان کے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھا جاؤ ، یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ ‘‘ اس سورہ کی تمہید اس طرح باندھی گئی ہے کہ ایک طرف اللہ سے ڈرنے اور اس کی ناراضی سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے اور دوسری طرف یہ بات ذہن نشین کرائی گئی ہے کہ انسانوں کی تخلیق کی ابتداء ایک انسان سے کی گئی ہے۔ اس لحاظ سے تمام انسانوں کا origin ایک ہے اور وہ ایک دوسرے کا خون اور گوشت پوست ہیں۔ ایک دوسری جگہ قرآن میں وضاحت کی گئی ہے کہ وہ پہلا انسان آدم تھا جس سے دنیا میں نسلِ انسانی پھیلی۔ انسانوں کے کمزور طبقوں کے حقوق کے بارے میں اگر واضح ہدایات دی ہیں تو وہ کسی ملحد مفکر یا دانشور نے نہیں بلکہ انسانوں کے خالق نے قرآنِ کریم میں دی ہیں۔ یہاں واضح طور پر حکم دیا گیا ہے کہ یتیم جب تک چھوٹے بچّے ہوں، ان کے مال ، ان کی خوراک، رہائش اور فلاح وبہبود پر خرچ کرو اور جب وہ بڑے ہوجائیں تو جو اُن کا حق بنتا ہے، وہ انھیں واپس کردو اور یتیموں کے اچھے اور معیاری مال کو اپنے برے اور غیر معیاری مال سے نہ بدل لو۔ آگے چل کر وضاحت فرمائی کہ جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں اور تم ان کے اندر اہلیّت پاؤ تو ان کے مال ان کے حوالے کردو۔ ایسا کبھی نہ کرنا کہ حدِّ انصاف سے تجاوز کرکے اس خوف سے ان کے مال جلدی کھا جاؤ کہ وہ بڑے ہوکر اپنے حق کا مطالبہ کریں گے۔ مفسّرین کے مطابق تقسیمِ وراثت کے پانچ احکامات دیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ وفات پاجانے والے کی میراث میں صرف مردوں کا ہی حصّہ نہیں، بلکہ عورتیں بھی اس کی حقدار ہیں۔ دوسرے یہ کہ میراث تقسیم ہونی چاہیے خواہ وہ کتنی ہی کم ہو، حتٰی کہ اگر مرنے والے نے ایک گز کپڑا چھوڑا ہے اور اس کے پندرہ یا بیس وارث ہیں تو ان سب کو حصہ دیا جائے گا۔ تیسرے یہ کہ وراثت کا قانون ہر قسم کے اموال واملاک پر جاری ہوگا خواہ وہ منقولہ ہو یا غیر منقولہ زرعی ہوں یا صنعتی یا کسی اور صنفِ مال میں شمار ہوتے ہوں۔ چوتھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ میراث کا حق اس وقت پیدا ہوتا ہے جب مورث کوئی مال چھوڑ کر مرا ہو اور پانچویں اس سے یہ قاعدہ بھی نکلتا ہے کہ اقرباء کی اہمیّت زیادہ ہے، اور اُن کا حق فائق ہے۔ قریب تر رشتے داروں کی موجودگی میں دور کا رشتے دار میراث میں حصّہ دار نہیں ہوگا۔ اس ضمن میں ایک آیت میں یہ بھی فرمایا گیا ہے ’’اور جب تقسیم کے موقع پر کنبہ کے لوگ اور یتیم اور مسکین آئیں تو اس مال میں سے ان کو بھی کچھ دو اور ان کے ساتھ بھلے مانسوں کی سی بات کرو‘‘ یہاں وفات پانے والے کے ورثاء کو ہدایت فرمائی جارہی ہے کہ میراث کی تقسیم کے موقع پر جو دور ونزدیک کے رشتے دار اور خاندان کے غریب لوگ اور یتیم بچے آجائیں تو ان کے ساتھ تنگ دلی نہ برتو، میراث میںشرع کے لحاظ سے تو ان کا حصہ نہیں ہے مگر فراخدلی سے کام لیتے ہوئے ترکہ میں سے ان کو بھی ضرور کچھ دے دو اور پھر یہ بھی تلقین کی گئی ہے کہ ان کے ساتھ ایسی دل شکن باتیں نہ کرو جو ایسے موقع پر بالعموم چھوٹے دل کے کم ظرف لوگ کیا کرتے ہیں۔ میراث کے معاملے میں یہ اوّلین اصولی ہدایت ہے کہ مرد کا حصّہ عورت سے دوگنا ہے، یہ اس لیے ہے کہ شریعت نے خاندانی نظام میں مرد پر ہی معاشی ذمّے داریوں کا بوجھ ڈالا ہے اور عورت کو معاشی ذمے داریوں کے بار سے سبکدوش رکھا ہے۔  لہٰذا انصاف کا تقاضا یہی تھا کہ میراث میں عورت کا حصہ مرد کی نسبت کم رکھا جاتا۔ اگر اولاد میں صرف بیٹیاں ہوں تو کل ترکے کا 2/3 حصہ ان بیٹیوں میں تقسیم ہوگا۔ عورتوں کے حقوق کا اس قدر خیال رکھا گیا ہے کہ انھیں والد کی وراثت کا حق دار بھی بنایا گیا ہے اور شوہر کے ترکے میں سے بھی ان کا معقول حصّہ رکھا گیا ہے۔ صرف اولاد نہیں بلکہ وراثت میں والدین کا بھی حصہ رکھا گیا ہے۔ متوفی کے صاحبِ اولاد ہونے کی صورت میں بھی اس کے والدین میں سے ہر ایک 1/6 کا حقدار ہوگا۔ ماں باپ کے سوا کوئی اور وارث نہ ہو تو باقی 2/3 باپ کو ملے گا ورنہ 2/3 میں باپ اور دوسرے وارث شریک ہوں گے۔ بھائی بہن ہونے کی صورت میں ماں کا حصہ 1/3کی بجائے 1/6 کردیا گیا ہے۔ اس طرح ماں کے حصہ میں سے جو 1/6 لیا گیا ہے وہ باپ کے حصّہ میں ڈالا جائے گا کیونکہ اس صورت میں باپ کی ذمّے داریاں بڑھ جاتی ہیں۔ یہ واضح رہے کہ متوّفی کے والدین اگر زندہ ہوں تو اس کے بہن بھائیوں کو حصّہ نہیں ملتا۔ اگر مرنے والے کی ایک بیوی ہو یا زیادہ ہوں تو اولاد ہونے کی صورت میں وہ 1/8 کی اور اولاد نہ ہونے کی صورت میں 1/4کی حصہ دار ہونگی اور یہ 1/4 یا 1/6 تمام بیویوں میں برابری کے ساتھ تقسیم کیا جائے گیا۔ جہاں وراثت کے حصے مقرر کیے گئے ہیں وہاں یہ بھی فرمایا گیا ہے ’’تم نہیں جانتے کہ تمہارے ماں باپ اور تمہارے اولاد میں سے کون بلحاظ نفع تم سے قریب تر ہے۔ یہ حصّے اللہ نے مقرر کردیے ہیں اور اللہ یقیناً سب حقیقتوں سے واقف اور تمام مصلحتوں کا جاننے والا ہے‘‘۔ پھر حکم دیا گیا ہے کہ ’’عورتوں کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی گذارو‘‘۔ یعنی ان کے معاملے میں نرمی اختیار کرو۔ عورتوں کے ساتھ سختی یا harshness  کا مظاہرہ کرنے کو سخت ناپسند کیا گیا ہے۔  اس کے بعد انسانوں کے خالق نے کچھ ایسے مقدّس رشتوں کے ساتھ نکاح کرنے پر پابندی عائد کردی ہے جو عقلِ سلیم اور مہذب معاشرتی اقدار کے عین مطابق ہے۔ اگر ماں بہن، بیٹی اور دوسرے محرّمات کے ساتھ نکاح کی کھلی چھوٹ ہوتی تو پھر انسانوں اور جانوروں میں کوئی فرق نہ رہ جاتا اور معاشرے سے پاکیزگی اور تقدّس ختم ہوجاتا، لہٰذامحرمات کی نشاندہی کرکے قرآن نے انسانیت پر بہت بڑا احسان کیا ہے کہ انسانی معاشرے کو جانوروں کا ریوڑ بننے سے بچالیا ہے۔ یہ حکمت اور دانائی کی ایسی باتیں ہیں جن سے انسانی تاریخ کے کسی دور میں کوئی بھی دانشور، فلسفی یا قانون دان انسانوں کو روشناس کرانے سے قاصر رہا ہے۔ حکمت اور دانائی کے یہ خزانے صرف اور صرف خالقِ کائنات نے ہی اپنی کتابِ حق کے ذریعے انسانوں کو عطا کیے ہیں، لہٰذا اُس ربِّ ذوالجلال کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل