Tuesday, March 31, 2026
 

کرکٹر کا مقدمہ

 



کرکٹر نسیم شا ہ کو ایک متنازعہ ٹوئٹ کرنے پر پی سی بی نے دو کڑور جرمانہ کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ نسیم شاہ نے اس ٹوئٹ پر معافی بھی مانگ لی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا پی سی بی نے درست فیصلہ کیا ہے؟ کیا جرمانہ کافی سزا ہے۔ کچھ دوستوں کی رائے ہے کہ بات معافی پر ختم ہو جانی چاہیے تھی۔ لیکن کچھ دوستوں کی رائے ہے کہ جرمانہ کوئی سزا نہیں ہے بلکہ پی سی بی نے نسیم شاہ کے ساتھ کافی رعائت کر دی ہے۔ وہ دوست جن کا موقف ہے کہ رعائت ہوئی ہے، ان کا موقف ہے کہ پاکستان کرکٹ کا سب سے بڑا مسئلہ ڈسپلن کا فقدان ہے۔ جو کوئی اسٹار بن جاتا ہے، وہ خود کو ڈسپلن سے مبرا سمجھنے لگتا ہے۔ وہ ڈسپلن کے ماتحت نہیں رہتا بلکہ ڈسپلن اس کے ماتحت ہو جاتا ہے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ ماضی میںایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں بڑی بڑی باتوں کو صرف پلیئر کی ’’اسٹار ویلیو‘‘ کی وجہ سے نظر انداز کیا گیا ہے۔ اب بھی یہی ہوا ہے۔ نسیم شاہ ایک اسٹار ہیں، اس لیے نرمی کی گئی ہے۔ اگر کسی کمزور پلیئر نے یہی حرکت کی ہوتی تو اسے کہیں زیادہ سخت سزا دی جاتی، اس لیے پی سی بی میں پلیئر کی اسٹار ویلیو دیکھ کر فیصلہ کیا جاتا ہے، فیصلہ کرنے کا کوئی شفاف نظام نہیں ہے۔ اسی لیے پاکستا ن کرکٹ میں ڈسپلن کی کمی ہے۔ اب ایسا ہی چل رہا ہے۔ پلیئرز رات دیر تک مہمانوں کو کمروں میں آنے دیتے ہیں۔ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ پلیئرز ڈسپلن اور کوڈ آف کنڈکٹ کو کوئی زیادہ اہمیت نہیں دیتے ہیں ۔ کرکٹ اسٹارز عوام میں مقبول ہوتے ہیں۔ لوگ ان سے ان کی کرکٹ صلاحیتوں کی وجہ سے محبت کرتے ہیں۔ عوام کی محبت ان نوجوانوں کو خود سر بنا دیتی ہے، پھر کم عمری میں دولت بھی آجاتی ہے۔ ایسا صرف پاکستا ن میں نہیں ہے، دنیا بھر میں ایسا ہی ہے، اسی لیے ان نوجوانوں کو ڈسپلن میں رکھنے کے لیے سخت قواعد بنائے جاتے ہیں ، ان کے لیے کوڈ آف کنڈکٹ بنائے جاتے ہیں۔ یہ ملک کی نمائندگی کرتے ہیں، اس لیے ان کا کردار ملک کے لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔ دنیا پھر کی تمام کھیلوں جہاں سٹا ر ویلیو ہے، وہاں یہ مسائل ہیں۔ صرف کرکٹ میں یہ مسائل نہیں ہیں، فٹ بال میں بھی یہ مسائل ہیں۔ دیگر مقبول کھیلوں میں بھی یہ مسائل ہیں۔ اچھے کھلاڑی اپنے ا چھے کھیل کی وجہ سے خود کو ناگزیرسمجھنے لگتے ہیں۔ وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ان کے بغیر کام چل نہیں سکتا۔ یہیں سے ڈسپلن نافذ کرنے والوں کا امتحان شروع ہوتا ہے۔ ریگولیٹر کا امتحان شروع ہوتا ہے، اس نے ڈسپلن کو بلا امتیاز نافذ کرنا ہوتا ہے۔ ورنہ اس کی رٹ کمزور ہو جاتی ہے۔ پاکستان کا سب سے مقبول کھیل کرکٹ ہے۔ یہاں پی سی بی کی رٹ ہمیشہ سے ’’پلیئر پاور‘‘ کے سامنے کمزور رہی ہے۔ ماضی میں پلیئرز نے کئی دفعہ پی سی بی کے خلاف بغاوت کی ہے۔ کپتانوں کے خلاف بغاوت کی گئی ہے، کھیلنے سے انکار کیا گیا۔ میچ فکسنگ کی گئی ہے۔ یہ سب کمزور رٹ کی وجہ سے ہوا ہے۔ اگر پی سی بی کا رعب اور خوف ہوتا تو کوئی کیسے جرات کر سکتا ہے۔ ایک کو عبرت کا نشان بنایا ہوتا تو دوسرے کو جرات نہیں ہوتی۔ آج بھی پاکستان کرکٹ کو ان مسائل کا سامنا ہے۔ آج بھی انھی مسائل کی وجہ سے ہماری کرکٹ آلود ہ ہے۔ ایک رائے ہے کہ نسیم شاہ کے معاملے پر نرمی کی گئی ہے۔ دو سال کی پابندی بھی لگنی چاہیے تھی، ان کا سینٹرل کنٹریکٹ بھی منسوخ ہونا چاہیے تھا۔ ادھر ایک اور رائے یہ بھی سامنے آئی ہے کہ محترمہ مریم نواز کو بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے نسیم شاہ کو معاف کر دینا چاہیے تھا۔ میں سمجھتا ہوں یہ کوئی درست بات نہیں۔ مریم نواز ایک سیاستدان ہیں، ان پر بہت لوگ تنقید کرتے ہیں، کئی صحافی ان پر تنقید کرتے ہیں بلکہ نسیم شاہ کی ٹوئٹ سے کہیں زیادہ سخت تنقید کرتے ہیں۔ ان کے مخالف سیاستدان ان پر اس سے کہیں زیادہ سخت تنقید کرتے ہیں۔ اس لیے ایک سیاستدان کے لیے تنقید اور مخالفت کوئی نئی چیز نہیں ہوتی۔ اسے مخالفت برداشت کرنے کی عادت ہوتی ہے۔ایسا تو نہیں ہے کہ نسیم شاہ کوئی پہلا شخص ہے جس نے وزیراعلیٰ مریم نواز پر تنقید کی ہے۔ اس لیے سوال مریم نواز پر تنقید کا ہے ہی نہیں ۔ جو لوگ اس کو مریم نواز کی ذات سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ کھیل کے ڈسپلن سمجھتے نہیں ہیں یا کھیلوں کو سیاست کی نذر کرنا چاہتے ہیں۔ جیسے کوئی سرکاری ملازم سیاسی پوسٹ نہیں لگا سکتا، کیونکہ وہ ریاست کا ملازم ہے، اس پر ریاست کا کوڈ آف کنڈکٹ نافذ ہوتا ہے۔ ایسے ہی کھلاڑیوں سے بھی یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ کھیل کے دوران غیر سیاسی رہیں گے۔ اسی لیے تماشائیوں کے لیے بھی کوڈ آف کنڈکٹ بنایا جاتا ہے کہ سٹیڈیم میں کوئی سیاسی جھنڈا نہیںہوگا۔ سیاسی نعرہ بازی نہیں کی جائے گی۔ کیونکہ کھیل کا میدان کوئی سیاسی اکھاڑا یا جلسہ گاہ نہیں ہے۔ جب تماشائیوں پر کوڈ آف کنڈکٹ لاگو ہوتا ہے تو پھر کھلاڑیوں پر کیوں نہیں ہوگا۔ کھلاڑیوں پر ڈسپلنیری قوانین زیادہ سخت ہوتے ہیں۔ جب بھارت کھیل میں سیاست لیکر آتا ہے تو ہم سب بھارت کی مذمت کرتے ہیں اور ہمارا مشترکہ موقف ہوتا ہے کہ کھیل میں سیاست نہیں ہونی چاہیے، جب بھارتی کھلاڑی کھیل میں سیاست لاتے ہیں تو ہم ان کی بھی مذمت کرتے ہیں کہ کھیل میں سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ جب یہ ہم سب کا موقف ہے تو ہم نسیم شاہ کی دفعہ کیوں رعائت کی باتیں کیوں کرتے ہیں۔ یہاں بھی سخت سزا کی بات کی جانی چاہیے کیونکہ رعایت دینے کی بات ہمارے اجتماعی موقف کو کمزور کرتی ہے، ڈسپلن کو کمزور کرتی ہے۔ بس بات سمجھنے کی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل