Tuesday, March 31, 2026
 

سپریم کورٹ، 3 ماہ میں3600 مقدمات دائر، 5383 نمٹائے گئے

 



سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت عدالتی اصلاحات پر پیشرفت کا دسواں جائزہ اجلاس ہوا، ماہانہ کارکردگی،عدالتی عمل کو جدید بنانے اور کارکردگی بڑھانے کا جائزہ لیا گیا۔ گزشتہ 3ماہ کے دوران 600 3 نئے کیس دائر ہوئے جبکہ383 5کیس نمٹائے گئے،سپریم کورٹ میں زیر التوا کیسز کی تعداد کم ہو کر 083،34رہ گئی۔ چیف جسٹس نے مقدمات نمٹانے کی شرح اور بہتر کیس مینجمنٹ کو سراہا۔ جاری اعلامیہ میں کہاگیاہے کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں اگلے30 دنوں کے اندر سماعت کے لیے مقرر کی جائیں گی۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ 2018 تک دائر ہونے والے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر فکس کیا جائے گا تاکہ مقدمات کا بوجھ کم کیا جا سکے۔ دوسری جانب وکلا نے 27ویں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت میں مقدمات نمٹانے کی رفتار کو غیرمتاثرکن قرار دیا ہے۔ آئینی عدالت کے کام شروع کرنے سے پہلے سپریم کورٹ میں کل 56ہزار608 مقدمات زیر التوا تھے جن میں سے 22 ہزار910 مقدمات آئینی عدالت کو منتقل کیے گئے اور 33ہزار698 مقدمات سپریم کورٹ میں ہی رہ گئے۔ دونوں اعلیٰ عدالتوں میں اب بھی 56ہزار سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں تاہم سپریم کورٹ میں پچھلے دو سالوں کے دوران فوجداری مقدمات کے نمٹانے کی شرح میں بہتری آئی ہے۔ ادھر سابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق محمود کھوکھر نے کہا ہے کہ آئینی عدالت میں 7 ججز کے ساتھ مقدمات کے بیک لاگ کو کم کرنے میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی، اس پر خزانے سے بڑی رقم خرچ ہو رہی ہے مگر سائلین کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا۔ حافظ احسان احمد نے کہا کہ آئینی عدالت میں ججز کی تعداد بڑھائی جانی چاہیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل