Loading
صحافی مطیع اللہ جان پر دہشتگردی کی دفعات ختم کرنے سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو فرد جرم عائد کرنے سے روک دیا۔
سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو مطیع اللہ کی دہشت گردی کی دفعات خاتمہ کیس جلد مقرر کرکے فیصلہ کرنے کی ہدایت کر دی۔
مطیع اللہ جانب سے وکیل قدیر جنجوعہ پیش ہوئے۔ پراسیکوشن کی جانب سے ہائیکورٹ کو ڈائریکشن دینے اعتراض نہیں کیا گیا۔
ڈپٹی پراسیکیوٹر نے کہا کہ عدالت ڈائریکشن دے ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ پھر فیصلہ تک چارج بھی فریم نہیں ہو سکتا۔
صحافی مطیع اللہ نے دہشتگردی کی دفعات ختم کرنے کیلئے ٹرائل کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ ٹرائل کے درخواست مسترد کرنے کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل