Loading
محکمہ اوقاف پنجاب نے حضرت داتا گنج بخشؒ کے دربار کے مالی اور انتظامی معاملات میں مبینہ بے ضابطگیوں پر انکوائری شروع کرتے ہوئے سابق اور موجودہ افسران کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے گئے۔
سرکاری دستاویز کے مطابق انکوائری کا آغاز 9 مارچ 2026ء کو موصولہ رپورٹ کی بنیاد پر کیا گیا جس میں دربار کی آمدن، چندہ بکسوں کی رقوم اور انتظامی معاملات میں تضادات اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی۔
دستاویز میں جن افسران کو انکوائری میں شامل کیا گیا ان میں شیخ جمیل احمد سابق ایڈمنسٹریٹر اوقاف دربار حضرت داتا گنج بخش لاہور، طاہر مقصود سابق اسٹینوگرافر، ثاقب نسیم، محمد شریف سابق نگران دربار اور نور حسین سابق نگران دربار جو اس وقت بادشاہی مسجد لاہور میں تعینات ہیں، شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دربار کی آمدن میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سامنے آیا، جہاں مختلف ادوار میں چندہ اور نذرانوں کی مد میں منفی اور مثبت فرق ریکارڈ کیا گیا، منفی فرق میں تقریباً 32.95 فیصد، 27.47 فیصد، 13.36 فیصد اور 27.10 فیصد کمی جبکہ بعض مواقع پر 33.40 فیصد، 29.1 فیصد، 72.23 فیصد اور 32.66 فیصد تک اضافہ بھی نوٹ کیا گیا۔
دستاویز کے مطابق چندہ بکسوں سے حاصل رقم ایک عرصے میں تقریباً 44 لاکھ 79 ہزار 970 روپے ریکارڈ کی گئی، جو بعد ازاں بڑھ کر 75 لاکھ 62 ہزار 119 روپے تک پہنچ گئی۔ اس نمایاں فرق پر مالی شفافیت کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
مزید برآں انکوائری رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بعض مواقع پر گنتی کے عمل کے دوران تقریباً 50 فیصد تک رقم کی کمی کا شبہ ظاہر ہوا، جبکہ ریکارڈ اور عملی وصولیوں میں فرق پایا گیا۔
دستاویز میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ بعض اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے غیر متعلقہ افراد کو معاملات میں شامل کیا اور قواعد کے برعکس مالی و انتظامی فیصلے کیے، جس سے ادارہ جاتی نظم و ضبط متاثر ہوا۔
چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ کی جانب سے جاری حکم نامے کے تحت تمام نامزد افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سات روز کے اندر الزامات کا تحریری جواب جمع کرائیں، جبکہ انکوائری افسر کو 60 روز میں مکمل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل