Loading
برصغیر کی تقسیم سے قبل متحدہ ہندوستان میں تین بڑے فلمی مراکز تھے بمبی، کلکتہ اور لاہور، قیام پاکستان کے بعد بمبی اور کلکتہ جو کہ اہم فلمی مراکز تھے وہ بھارت کے حصے میں آئے جب کہ لاہور جو کہ کم لاگت پر بننے والی فلموں کے حوالے سے جانا جاتا تھا وہ پاکستان کے حصے میں آیا۔
فلمی اصطلاح میں جس طرح امریکی فلمی صنعت کے لیے ہالی وڈ اور بھارتی فلمی صنعت کے لیے بالی وڈ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے اسی طرح پاکستانی فلم انڈسٹری کے لیے لالی وڈ کی اصطلاح استعمال کی جانے لگی۔
قیام پاکستان کے بعد سب سے اہم مسئلہ یہ تھا کہ سینما گھروں کو چلانے کے لیے فلمیں کہاں سے لائیں۔ پاکستان کے بعض عناصر پاکستان کو ایک نظریاتی مملکت ہونے کی بنا پر پاکستان میں فلمی صنعت کے فروغ کے بھی خلاف تھے۔
اس طرح واضح پالیسی نہ ہونے کے باعث ہماری فلمی صنعت ابتدائی سے ہی مشکلات کا شکار رہی ہے، تاہم فلمی صنعت سے وابستہ افراد فلمی صنعت کے فروغ کے لیے کوشاں رہے اور انھوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اسے نہ صرف برقرار رکھا بلکہ اسے پروان بھی چڑھایا۔
1960کی دہائی میں اسے حکومتی سرپرستی حاصل ہوئی اور عروج حاصل ہوا۔ 1970 کی دہائی کا دور فلمی صنعت کے لیے سنہری دور ثابت ہوا۔ اس تمام عرصے میں پاکستانی فلم انڈسٹری نے اپنی بہترین کہانیوں اور خوب صورت موسیقی اورگیتوں کے ساتھ بہترین اور شکاہکار فلمیں تخلیق کیں۔
1980 کی دہائی میں حکومت کی سخت گیر پابندیوں، بے جا سنسر شپ اور موضوعاتی پابندیوں کے باعث فلمی صنعت زوال کی جانب گامزن ہوئی۔ اس صورت حال کا پڑوسی ملک بھارت نے خوب فائدہ اٹھایا۔
اس نے بھارتی فلموں کو فروغ دے کر اپنی ثقافت کو دنیا بھر میں اجاگر کیا جس کا اثر ہمارے ملک پر بھی ہوا اور ان کے اثرات ہمارے سماج پر بھی مرتب ہوئے اس طرح ہم اپنے پڑوسی ملک سے ثقافتی محاذ پر ناکامی سے دوچار ہوئے۔
اس صورت حال میں اس شعبے سے وابستہ باصلاحیت افراد نے اس شعبے سے لاتعلقی اختیار کرلی اور وہ اس سے کنارہ کش ہوگئے۔ اس کے بعد نتیجے میں جو فلمیں تخلیق کی گئیں وہ اپنی کمزورکہانیوں، بے ہنگم موسیقی، ناقص شاعری، گھٹیا مکالمے، فلموں کا ہماری ثقافت اور روایات سے ہم آہنگ نہ ہونا، نقل کا رجحان، نمبر ون کی دوڑ میں اداکاروں کی باہمی رقابت، سرمایہ کی بنیاد پر فن سے ناواقف افراد کا اس شعبے میں داخل ہونا وہ عوامل ہیں جس نے ہماری فلمی صنعت کی رہی سہی ساکھ کو بھی ختم کرکے رکھ دیا۔
اس کے نتیجے میں فلم دیکھنے والوں نے پاکستانی فلمیں دیکھنی بند کردی۔ ان کا رحجان بھارتی فلمیں جو وی سی آر (V.C.R) کے ذریعے پاکستان میں داخل ہوچکی تھیں دیکھنی شروع کردیں،یوں ہمارے یہاں سینما گھروں کی صنعت ختم ہونی شروع ہوگئی اور سینما گھر مارکیٹوں، شادی ہالوں اور دیگر کاروباری مراکز میں تبدیل ہوگئے اور اس طرح فلمی صنعت مکمل طور پر زوال پذیر ہوگئی۔
اس کے باوجود اس صنعت سے وابستہ بعض مخلص افراد نے اس صنعت کو برقرار رکھا اور اس کے فروغ کے لیے کوشاں رہے اور آج بھی اس کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں۔ میری ذاتی رائے میں تخلیقی عمل کے اظہار کے لیے آزادی فکر بنیادی شرط ہے۔
سنسر کی بے جا پابندی کے سبب تخلیقی عمل ممکن نہیں۔ غیر ضروری سنسر کی پالیسی نے فلموں کو نقصان پہنچایا ہے۔
فلم ڈرامے کے میڈیا سے قطعی مختلف ہے، فلم میں ڈرامے کے مقابلے میں انتہائی مختصر وقت میں تاثرات کے ذریعے پوری کہانی کو اسکرین پر پیش کرنا ہوتا ہے، اس پر بے جا پابندی عائد کی جاتی ہے تو فلمیں ناکامی سے دوچار ہوجاتی ہیں۔
یہ انسانی فطرت ہے کہ انسان زیادہ دیر تک ایک ہی چیز کو بار بار دیکھ کر اکتا جاتا ہے اور وہ تبدیلی کا خواہش مند ہوتا ہے اگر تبدیلی نہ ملے تو وہ اسے دیکھنا ترک کردیتا ہے۔
ہمارے یہاں ماضی میں یہ طریقہ رہا ہے کہ فلم ایک مخصوص فارمولے پر مشتمل ہوتی تھیں جس میں کہانی کے ساتھ کچھ گانے کچھ کرداروں کے مابین تصادم اور ٹکراؤ، مزاح اور رومانس دیکھا جاتا تھا۔
یہ فارمولا فلمیں کافی عرصے تک دیکھی جاتی رہی جیسے ناظرین نے قبول کیا۔ وقت تبدیل ہوا، لیکن ہمارے یہاں فارمولا فلمیں بنائی جاتی رہیں جسے ناظرین بالخصوص نئی نسل نے مسترد کردیا اور اس طرح فارمولا فلمیں ناظرین کی توجہ حاصل نہ کرسکیں اور فلمیں ناکامی سے دوچار ہوئیں۔
الفاظ کی خوب صورتی، ادب، شاعری کو جنم دیتی ہے رنگوں کی خوب صورتی مصوری کو جنم دیتی ہے۔ اسی طرح آواز کی خوب صورتی موسیقی اور جسمانی حرکات کی خوب صورتی رقص کو جنم دیتی ہے، ہمارے سماجی اقدار میں جب تک رقص اپنی اخلاقی حدود میں رہے تو پسند کیا جاتا ہے اور جب رقص بیہودگی کی شکل اختیار کر لے تو وہ فحش نگاری کے زمرے میں آتا ہے جب ہماری فلموں میں رقص نے فحش نگاری کی شکل اختیار کی تو عوام بالخصوص خواتین نے سینما گھروں کا رخ کرنا بند کردیا اس طرح فلم دیکھنے والوں کی بڑی تعداد فلم سے لاتعلق ہوگئی جس کے نتیجے میں فلمی صنعت زوال کا شکار ہوئی۔
فلم اپنی سحر انگیزی کی وجہ سے ایک طاقتور ترین اور مقبول ترین میڈیا ہے، اس کے ذریعے نہ صرف اپنی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ اپنے نظریات اور افکار کو فروغ دے کر رائے عامہ کی تشکیل بھی کی جاتی ہے۔
ہم نے فلم کے ذریعے اپنی سوچ اور کلچر کو اجاگر کرنے کے بجائے نقل کے رحجانات کو فروغ دیا جس سے نہ صرف فلم کا معیار متاثر ہوا بلکہ اس عمل نے ہماری شناخت کو بھی متاثر کیا۔برے کرداروں کو ہیرو بناکر پیش کرنے کا عمل، پرتشدد اور گنڈاسا کلچر پر مبنی فلمیں کچھ عرصے منافع کے اعتبار سے بہت کامیاب رہی ہیں۔
لیکن یہ رحجان بھی ہماری فلمی صنعت کے زوال کا بڑا سبب بنا ہے اس رحجان نے ملک کی ایک پڑھی لکھی اور سنجیدہ آبادی کو فلم سے دور کردیا بلکہ خواتین جو ملک کی نصف آبادی پر مبنی ہیں وہ بھی فلم دیکھنے کے عمل سے لاتعلق ہوگئیں یوں یہ عمل فلم کی صنعت کے زوال کا باعث بنا۔یہ وہ تمام عوامل ہیں جو ہماری فلمی صنعت کے زوال کا سبب بنے ہیں۔ ان عوامل کو دور کرکے ہم اپنی فلمی صنعت کو فروغ دے سکتے ہیں۔ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ فلمیں محض تفریح کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ یہ عوام الناس کی سیاسی، سماجی، تعلیمی اور تہذیبی تربیت کا ذریعہ بھی ہیں، ان کے ساتھ یہ روزگار کی فراہمی کا بھی ایک بڑا ذریعہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
یاد رکھیں موجودہ دور میں اخبارات، رسائل، کتب اپنی کشش کھوتے جا رہے ہیں اس کی جگہ الیکٹرک میڈیا نے لے لی ہے۔ نئی نسل الیکٹرک میڈیا کی جانب راغب ہورہی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس جانب توجہ دیں۔ دوسری صورت میں ہم غیروں کی ثقافتی یلغار کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل