Loading
پاکستان کا زرعی شعبہ اس وقت سہ طرفہ مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ ایک طرف داخلی پالیسیوں کا تضاد ہے تو دوسری طرف موسمیاتی تبدیلیاں پیداوار کو متاثر کر رہی ہیں، اور اب تیسرا محاذ مشرقِ وسطیٰ میں ایران اسرائیل کشیدگی کی صورت میں کھلا ہے جس نے عالمی ’سپلائی چین‘ کو لرزا کر رکھ دیا ہے۔
فوڈ سیکیورٹی محض ایک معاشی ہی نہیں بلکہ ملک کے لیے قومی سلامتی کا سنگین چیلنج بن سکتا ہے۔ کسان پہلے ہی گوں ناگوں مسائل کا شکار تھا، لیکن اب تیل کی نئی قیمتوں اور ایران جنگ سے جڑے سپلائی شاکس نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاشتکار کو مزید مشکلات میں دھکیل دیا ہے۔
گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران پاکستان کے زرعی منظرنامے پر جو سب سے بڑی ضرب لگی، وہ حکومت اور کسان کے درمیان اعتماد کا رشتہ ٹوٹنا تھا۔ پاکستان اکنامک سروے 2024-25 کے اعداد و شمار گواہی دیتے ہیں کہ زراعت کی شرح نمو جو کبھی معیشت کا انجن تھی، اب محض 0.56 فیصد پر رینگ رہی ہے۔
خاص طور پر گندم کے معاملے میں حکومت کی ’اوپن مارکیٹ‘ پالیسی نے چھوٹے کسان کو شدید اور غیر متوقع جھٹکا دیا۔ جب کسان کو اپنی فصل کی لاگت بھی وصول نہ ہو تو وہ متبادل ڈھونڈنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
گزشتہ سال گندم کی بے جا درآمد اور پھر مقامی خریداری سے حکومتی لاتعلقی نے مارکیٹ میں جو بے یقینی اور عدم دلچسپی پیدا کی، اس کا اثر کسانوں میں عمومی اضطراب کی صورت میں نظر آ رہا ہے۔ کسان گندم اور چینی سمیت کئی اجناس کی وافر پیداوار کے باوجود بین الصوبائی نقل و حرکت پر پابندیوں کی وجہ سے مناسب قیمت نہ ملنے کی مشکل میں پھنس کر رہ گیا ہے۔ صوبوں کے درمیان نقل و حرکت سمیت فاضل پیداوار کی برآمد کا صیح وقت پر موزوں بندوبست کسان کو مناسب قیمت کے لیے ضروری ہے۔
عالمی ادارے FAO (ادارہ برائے خوراک و زراعت) اور IPC کی مارچ 2026 کی تازہ ترین رپورٹس بتاتی ہیں کہ پاکستان کی 21 فیصد آبادی یعنی تقریباً ساڑھے سات ملین افراد ’تیسرے درجے‘ (Crisis Level) کے غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک کا ہر چوتھا شہری غذائی قلت کی لکیر پر کھڑا ہے۔
اسی تناظر میں ورلڈ بینک کی ’پیداواری خلیج‘ (Yield Gap) رپورٹ ایک اور چشم کشا حقیقت کی مظہر ہے کہ پاکستان میں گندم کی فی ایکڑ پیداوار عالمی اوسط سے 40 فیصد کم ہے۔ اگر ہم صرف بھارتی پنجاب سے اپنا موازنہ کریں تو وہاں کی فی ایکڑ پیداوار ہم سے 35 فیصد زیادہ ہے۔ یہ فرق زمین کی زرخیزی کا نہیں بلکہ جدید بیج، ٹیکنالوجی اور حکومتی سرپرستی کے فقدان کا نتیجہ ہے۔
اس گھمبیر صورتحال میں ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان حالیہ فوجی تصادم نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے سائے عالمی توانائی کی منڈیوں پر براہِ راست اثر انداز ہوئے ہیں۔ خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ پاکستان جیسے ملک کے لیے، جس کا زرعی ڈھانچہ مکمل طور پر درآمدی ایندھن پر کھڑا ہے، ایک مہلک جھٹکا ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت کے وقتی سپورٹ کے اقدامات مکمل۔تلافی کے کیے ناکافی ہیں۔
ایران جنگ کے نتیجے میں تیل کی سپلائی میں رکاوٹ نے ٹریکٹرز، ٹیوب ویلز اور کٹائی کی مشینوں کے کرایوں میں 20 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے۔ چھوٹا کسان جو پہلے ہی کھاد کی بوری 12 سے 15 ہزار روپے میں خریدنے پر مجبور تھا، اب ڈیزل کی نئی قیمتوں کے سامنے بے بس ہو چکا ہے۔
پاکستان کی کھاد کی صنعت کا انحصار گیس اور ایندھن پر ہے۔ عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں کا بڑھنا براہِ راست یوریا اور ڈی اے پی کی قیمتوں کو متاثر کرتا ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے مطابق، اگر ان پٹ لاگت اسی تناسب سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں خریف کی فصلوں کی پیداوار میں مزید 10 سے 12 فیصد کمی کا خدشہ ہے۔
ایران کے راستے ہونے والی زمینی تجارت اور آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں کشیدگی نے بحری مال برداری کے کرایوں (Freight Charges) کو ریکارڈ سطح پر پہنچا دیا ہے۔ پاکستان جو اپنی خوردنی تیل کی ضروریات کا 90 فیصد درآمد کرتا ہے، اب اس ’امپورٹ بل‘ میں اربوں ڈالر کے اضافے کا سامنا کر رہا ہے، جس کا بوجھ براہِ راست عام صارف کی جیب پر پڑے گا۔
ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کی "پاکستان اکنامک اپ ڈیٹ 2026" واضح کرتی ہے کہ اگر زراعت میں دوررس اسٹرکچرل اصلاحات نہ کی گئیں تو پاکستان کی۔زرعی پیداوار میں کمی کے سبب مستقبل میں ملک کا تجارتی خسارہ کنٹرول کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ ہم ایک ایسی تشویشناک صورت حال کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں ہمیں اپنے لوگوں کا پیٹ بھرنے کے لیے وہ ڈالر خرچ کرنے پڑیں گے جو ہمیں قرضوں کی واپسی کے لیے درکار ہیں۔
موجودہ تناظر میں سب سے بڑا چیلنج ’سپلائی شاکس‘ کا انتظام کرنا ہے۔ جب عالمی منڈی میں خوراک کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو پاکستان جیسے ملک میں جہاں غریب اپنی آمدنی کا 50 فیصد سے زائد خوراک پر خرچ کرتا ہے، وہاں ’سماجی بے چینی‘ (Social Unrest) لازمی ہے۔ حالیہ مہینوں میں سبزیوں اور دالوں کی قیمتوں میں جو اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، خدشہ ہے حالیہ عالمی سپلائی چین کے سبب مزید مشکلات کا باعٹ ہو سکتا ہے۔
حکومتی سطح پر جو اقدامات نظر آ رہے ہیں، وہ ’عارضی ریلیف‘ تو ہو سکتے ہیں لیکن پائیدار حل نہیں۔ زراعت کو اب محض ایک روایتی پیداواری سیکٹر کے طور پر نہیں بلکہ ایک ’ انڈسٹری‘ کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔
اول، ہمیں ’کلائمیٹ ریزیلنٹ‘ بیجوں کی طرف فوری منتقلی کرنی ہوگی تاکہ بدلتے موسموں کا اثر کم سے کم ہو۔ دوم، انرجی سیکٹر میں زرعی ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن اب کوئی انتخاب نہیں بلکہ ضرورت بن چکی ہے تاکہ ہم عالمی تیل کی قیمتوں کے رحم و کرم پر نہ رہیں۔
سوم، ورلڈ بینک کی تجویز کے مطابق، ہمیں گندم کی خریداری کے پرانے اور کرپٹ نظام کو ختم کر کے براہِ راست کسان کو ’کیش کریڈٹ‘ ، کسان دوست مارکیٹ پالیساں اور بندوبست ، اسٹوریج اور آسان قرضوں کی فراہمی کا سہل اور موٹر نظام وضع کرنا ہو ہوگا تاکہ مڈل مین کا کردار ختم یا کم ہو سکے۔
پاکستان کی غذائی بقا یعنی فوڈ سیکیورٹی کا راستہ ’کھیتوں‘ سے گزرتا ہے۔ کسان جو اس مٹی کا وارث ہے، گزشتہ کئی دہائیوں مختلف نوعیت کے اسٹرکچرل مسائل کے سبب زرعی پیداوار میں کمی کا شکار ہے۔
ایران جنگ سے جنم لینے والے نئے جغرافیائی و معاشی چیلنجز نے کسان کے لیے مشکلات کا نیا پنڈورہ باکس کھول دیا ہے۔ اس وقت۔حکومت کو چھوٹے کسان کو سہارا دینے اور مارکیٹ کی بے ترتیبی یعنی Analmolies کو دور کرنے کی اشد اور فوری ضرورت ہے تبھی ملکی کی ’فوڈ سیکیورٹی‘ ممکن ہو پائے گی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل