Sunday, April 05, 2026
 

ایران کی عراقی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی مکمل اجازت، باقی دنیا کے لیے پابندیاں برقرار

 



تہران: ایران نے اعلان کیا ہے کہ عراقی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی مکمل اجازت ہوگی اور ان پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں کی جائے گی، جبکہ دیگر ممالک کے لیے کنٹرول برقرار رہے گا۔ ایرانی فوج کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عراق کو اس اہم آبی گزرگاہ میں خصوصی استثنا دیا گیا ہے اور یہ سہولت دشمن ممالک کے علاوہ دیگر کے لیے محدود ہوگی۔ بیان میں عراق کی خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے اس کی امریکا کے خلاف جدوجہد کو بھی سراہا گیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا کے صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول ختم کرے یا کسی معاہدے پر آمادہ ہو، بصورت دیگر سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایران نے امریکی دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے اسے غیر سنجیدہ اور غیر متوازن قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ ایران نے 28 فروری سے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے بعد آبنائے ہرمز پر عملاً کنٹرول سخت کر دیا تھا، جس کے باعث عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی شدید متاثر ہوئی۔ حالیہ ہفتوں میں کچھ بحری آمد و رفت میں اضافہ دیکھا گیا ہے، تاہم مجموعی ٹریفک اب بھی معمول سے 90 فیصد کم ہے۔ شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق گزشتہ ہفتے 53 جہازوں نے اس راستے سے گزرنے کی کوشش کی، جو جنگ شروع ہونے کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔ رپورٹس کے مطابق حال ہی میں ایک فرانسیسی کنٹینر جہاز اور ایک جاپانی ٹینکر بھی اس راستے سے گزرے، جو جنگ کے آغاز کے بعد ان ممالک سے پہلی نمایاں آمد و رفت تھی۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس راستے میں رکاوٹ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور کئی ممالک کو ہنگامی توانائی اقدامات کرنا پڑے ہیں۔ دوسری جانب عراق کی معیشت بھی اس صورتحال سے متاثر ہوئی ہے۔ عراقی وزارتِ تیل کے مطابق ملک کی یومیہ تیل پیداوار 4.3 ملین بیرل سے کم ہو کر 1.2 ملین بیرل رہ گئی ہے، جس سے آمدنی میں نمایاں کمی آئی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل