Monday, April 06, 2026
 

جنگ بندی تجویز پر امریکا اور ایران کا مؤقف آگیا

 



امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے پاکستان سمیت مصر اور ترکیہ نے ثالث کا کردار ادا کیا ہے اور دونوں ممالک کو ایک ڈرافٹ بھی پیش کیا گیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس میں جنگ بندی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی عقلمند شخص ایسی صورتحال کو قبول نہیں کرے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی دراصل صرف ایک وقفہ ہوتا ہے جس سے مخالف فریق کو دوبارہ طاقت حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ایران کا اصل مطالبہ جنگ کا مکمل خاتمہ ہے نہ کہ وقتی توقف کرنا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر ہم سمجھتے ہیں کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ یہ ضمانت بھی چاہیئے کہ مستقبل میں جنگ دوبارہ نہ ہو اور یہ ضمانتیں کسی بین الاقوامی ادارے سے نہیں بلکہ طاقت اور جوابی حملوں کے ذریعے حاصل ہوں گی۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ جنگ بندی منصوبہ بہت سی دستیاب تجاویز میں سے ایک ہے اور ٹرمپ نے فی الوقت اس کی منظوری نہیں دی۔ آپریشن ایپک فیوری جاری ہے۔ اہلکار نے بی بی سی کو مزید بتایا کہ اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج ایک پریس کانفرنس بھی کریں گے اور اپنا مؤقف پیش کریں گے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل