Loading
سعودی عرب نے خلائی میدان میں ایک اور اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے اپنا ’شمس‘ سیٹلائٹ امریکی خلائی ادارے ناسا کے تاریخی آرٹیمس ٹو مشن کے ساتھ خلا میں بھیج دیا ہے، جس کے بعد سعودی عرب آرٹیمس پروگرام میں شامل ہونے والا پہلا عرب ملک بن گیا ہے۔
یہ تاریخی مشن یکم اپریل کو امریکی ریاست فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے اسپیس لانچ سسٹم راکٹ کے ذریعے روانہ کیا گیا۔ اس مشن کا مقصد تقریباً 50 سال بعد انسانوں کو دوبارہ چاند کے قریب لے جانا ہے۔
آرٹیمس 2 مشن میں 4 خلا باز شامل ہیں، جو 10 روزہ سفر کے دوران تقریباً 6 لاکھ 85 ہزار میل کا فاصلہ طے کرتے ہوئے چاند کے گرد چکر لگائیں گے اور پھر زمین پر واپس آئیں گے۔ اس مشن میں چاند پر لینڈنگ شامل نہیں ہے، بلکہ یہ ایک اہم آزمائشی مرحلہ ہے جو مستقبل میں انسانی لینڈنگ کی راہ ہموار کرے گا۔
سعودی اسپیس ایجنسی کے مطابق ’شمس‘ سیٹلائٹ زمین کے مدار میں تقریباً 500 سے 709 کلومیٹر کی بلندی پر گردش کرے گا۔ یہ سیٹلائٹ موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی ڈیٹا اور دیگر سائنسی معلومات فراہم کرنے میں مدد دے گا، جس سے تحقیق اور موسمی پیشگوئی کے شعبوں میں پیش رفت متوقع ہے۔
یہ مشن کئی حوالوں سے تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ پہلی بار ایک سیاہ فام خلا باز چاند کے مدار تک جائے گا، جبکہ پہلی بار ایک خاتون اور ایک غیر امریکی فرد کو بھی اس مشن میں شامل کیا گیا ہے، جو خلائی تحقیق میں تنوع کی عکاسی کرتا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل آرٹیمس ون مشن نومبر 2022 میں کامیابی سے مکمل کیا گیا تھا، تاہم اس میں کوئی انسان سوار نہیں تھا۔ اگر آرٹیمس 2 مشن کامیاب رہا تو یہ مستقبل میں انسانوں کی چاند پر واپسی کے لیے ایک بڑی پیش رفت ثابت ہوگا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل