Thursday, April 09, 2026
 

آبنائے ہرمز مکمل طور پر بحال نہ ہوسکی؛ تیل کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر کے قریب پہنچ گئی

 



اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جسے ایران نے امریکا کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کو پھر بند کردیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران اور امریکا کی جنگ بندی کے باوجود تاحال آبنائے ہرمز پر جہازوں کی آمدورفت بحال نہیں ہوسکی ہے عالمی سپلائی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ جس کے باعث امریکی خام تیل ’ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ‘ کی قیمت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے جبکہ عالمی بینچ مارک برینٹ بھی 97 ڈالر کے آس پاس رہا ہے۔ آج (جمعرات) کو امریکی خام تیل کی قیمت میں 5 فیصد سے زائد اضافہ ہوا اور یہ 100 ڈالر کی سطح کو چھو گئی جو جنگ بندی کے اعلان کے بعد پہلی بار ہے۔ اس سے صرف ایک روز قبل تیل کی قیمتوں میں 16 فیصد تقریباً 18 ڈالر کی تاریخی کمی دیکھی گئی تھی جو 1983 کے بعد سب سے بڑی یومیہ کمی تھی۔ یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا جس کے دوران امریکا کو حملے بند کرنا ہیں اور ایران آبنائے ہرمز کھول دے گا۔ تاہم اسرائیل کی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں کے باعث دوبارہ کشیدگی نے جنم لیا ہے اور جنگ بندی معاہدہ کھٹائی میں پڑتا نظر آرہا ہے۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز خام تیل کی دنیا بھر میں ترسیل کا سب سے اہم راستہ ہے جسے ایران اپنی ملکیت سمجھتا ہے اور عملاً اسی کے کنٹرول میں بھی ہے۔    

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل