Loading
مشرق وسطیٰ میں جنگی حالات کے دوران پرواز کرنے والے پائلٹس کو مبینہ طور پر کافی دباؤ کا سامنا ہے جس میں بہت سے لوگوں کو خوف ہے کہ اگر وہ پرواز سے انکار کرتے ہیں تو انہیں نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انٹرنیشنل فیڈریشن آف ایئر لائن پائلٹ ایسوسی ایشن کے صدر رون ہی نے انکشاف کیا کہ پائلٹس نے عالمی سطح پر ممکنہ پابندیوں کے بارے میں وسیع پیمانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے یہاں تک کہ ان کی تنخواہ میں کٹوتی یا انہیں نوکری سے بھی نکالا جاسکتا ہے۔
رون ہی نے بتایا کہ متعدد ممالک کے پائلٹس نے اپنے اداروں کی جانب سے انتقامی کارروائیوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر وہ غیر متوقع حالات میں پرواز کرنے سے انکار کرتے ہیں جہاں میزائل یا ڈرون حملوں کا خطرہ ہے۔ تو انہیں نوکری سے برخاست کیے جانے کا خطرہ ہے۔
ڈیلٹا ایئر لائنز کے کپتان نے کہا کہ کچھ پائلٹ برطرف کیے جانے سے پریشان ہیں۔ دوسروں کے لیے ممکن ہے کہ ملازمت سے محروم نہ ہوں لیکن پرواز سے انکار کرنے پر انہیں تنخواہ سے محروم رکھا جاسکتا ہے۔
رون ہی نے پائلٹس کیخلاف ایسے اقدام کرنے والی ایئرلائنز کا نام بتانے سے انکار کردیا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل