Loading
وفاقی دارالحکومت میں ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات اور اس دوران خوشگوار ماحول کو کامیاب نتائج کے لیے نیک شگون قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان کی جانب سے طویل اور کامیاب سفارت کاری کے نتیجے میں عارضی جنگ بندی اور اس کے بعد فریقین کے مذاکرات کی میز پر آنے کے فیصلے نے دنیا بھر کی نظریں اسلام آباد پر مرکوز کردی ہیں۔
بین الاقوامی مبصرین کی جانب سے اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کے لیے غیر ملکی وفود کے ساتھ ساتھ فریقین کی آمد کو خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ امریکا سے مذاکرات کے لیے ایرانی وفد گزشتہ شب اسلام آباد پہنچ چکا ہے، جس میں پارلیمان کے اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت دیگر اعلیٰ عہدوں کی حامل شخصیات شامل ہیں۔
بعد ازاں ہفتے کی صبح امریکی نائب صدر کی زیر قیادت اعلیٰ سطح کا وفد بھی اسلام آباد پہنچ چکا ہے، جس میں خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں۔
دونوں اعلیٰ سطح کے وفود کا استقبال نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کیا، جس سے مذاکرات کے مثبت اور امید افزا آغاز کا تاثر ابھر کر سامنےآیا ہے۔
اس موقع پر نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے وفود کی جانب سے عالمی اور علاقائی امن کے فروغ کے عزم کو سراہا۔
مذاکرات کے آغاز پر میزبان اور مہمان شخصیات کے درمیان خوشگوار ماحول اور باہمی احترام واضح طور پر نمایاں ہے، جسے مذاکرات کی کامیابی کے لیے نیک شگون قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ مجموعی فضا انتہائی مثبت اور پُرامید دیکھی جا رہی ہے، جو نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے سازگار بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل