Loading
انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں وکیل کے بیٹے کے مبینہ اغوا برائے تاوان کیس کی سماعت کے دوران سرکاری افسران کی عدم حاضری پر جمع کرایا گیا معافی نامہ منظور کر لیا گیا۔ عدالت نے معافی نامہ جمع ہونے پر سرکاری افسران کے وارنٹ گرفتاری معطل کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دے دیا۔
سماعت کے دوران ایس ایس پی اے وی سی سی آصف بلوچ اور ڈی ایس پی اے وی سی سی سلیم نے عدالتی سمن کی تعمیل سے متعلق رپورٹ پیش کی۔ حکام کے مطابق عدالتی احکامات کے تحت متعلقہ ملزمان کو سمن وصول کرا دیئے گئے ہیں۔
کیس میں نامزد سرکاری افسران میں سابق ایس ایس پی ملیر کاشف عباسی، سابق ڈپٹی کمشنر ملیر سلیم اللہ، مختیارکار مراد میمن ریاض مغیری، اسسٹنٹ کمشنر مراد میمن خالد معروف اور ایس ایچ او گڈاپ سرفراز جتوئی شامل ہیں۔
وکیل غلام اکبر جتوئی نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے بیٹے تیمور خان جتوئی کو مذکورہ ملزمان نے مبینہ طور پر تاوان کے لیے اغوا کیا، تشدد کا نشانہ بنایا، قتل کی دھمکیاں دیں اور ہراساں کیا۔ ان کے مطابق 24 مارچ کو عدالت نے ملزمان کے خلاف دفعہ 365 اے اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت کارروائی کا نوٹس لیا تھا۔
عدالت نے آئندہ سماعت پر حکام سے پیش رفت رپورٹ بھی طلب کر لی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل