Loading
پاکستان اور ایران کے درمیان زمینی راستے سے تجارتی سرگرمیوں کا آغاز کردیا گیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پاک ایران ٹرانزٹ کوریڈور کے تحت تجارتی سرگرمیوں کا آغاز کردیا گیا اور اس کوریڈورسے پاکستان سے پہلا برآمدی کنسائمنٹ بھی بھیج دیا گیا ہے۔
ڈائریکٹوریٹ ٹرانزٹ ٹریڈ کسٹمز ثناءاللہ ابڑو نے ایکسپریس کو بتایا کہ پہلی برآمدی کھیپ ریفریجریٹڈ ٹرکوں کے ذریعے ازبکستان تاشقند کے لیے منجمد گوشت بھیجا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان سے ٹرانزٹ کوریڈور کے ذریعے اشیا کے کنسائمنٹس گوادر، ایران کے راستے وسط ایشیائی ریاستوں تک پہنچایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس کوریڈور کے فعال ہونے سے پاکستان کی ناصرف معیشت کی نمو کی رفتار تیز ہوجائے گی بلکہ پاکستانی بندرگاہوں پر رش بھی بڑھ جائے گا۔
ڈائریکٹوریٹ کے مطابق پاک ایران ٹرانزٹ کوریڈور کا عملی آغاز ٹی آئی آر کے تحت کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں ڈائریکٹوریٹ ٹرانزٹ ٹریڈ کسٹمز نے ٹی آئی آر کے طریقہ کار کو موثر بناتے ہوئے ٹی آئی آر ٹرانزٹ کے لیے تافتان، رمدان، سوست، گوادر ودیگر اہم بارڈر کراسنگ پوائنٹس کو فعال کیا ہے۔
پاک ایران ٹرانزٹ کوریڈور پاکستان کی تجارت اور ٹرانزٹ شعبے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا اور اس پیشرفت کو پاکستان کے لیے ایک اسٹریٹجک کامیابی قرار دیا جارہا ہے جو نہ صرف برآمدات میں اضافے کاباعث بنے گا بلکہ علاقائی رابطوں کو بھی نئی جہت دے گا۔ ذرائع کے مطابق ایران کوریڈور کے فعال ہونے سے پاکستان کو سمندری راستوں پر انحصار کم کرتے ہوئے ایک متبادل اور کم لاگت تجارتی راستہ میسر آئے گا جس سے ٹرانزٹ دورانیئے میں کمی اور کاروباری لاگت میں خاطر خواہ کمی ممکن ہوسکے گی، اس سلسلے میں منعقدہ تقریب میں ڈائریکٹر جنرل ٹرانزٹ ٹریڈ کسٹمز ثناءاللہ ابڑو اور ڈائریکٹر ٹرانزٹ محمد راشد نے پہلی کنسائمنٹس کو روانہ کیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل