Loading
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کو مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے اب تک کی کوششوں میں سب سے بڑی کامیابی قرار دے دیا۔
الجزیرہ کو انٹرویو میں چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ درحقیقت مذاکرات کو ہونا اب تک خود ایک بڑی کامیابی ہے، یہ اہم ہے کہ اس وقت جنگ بندی ہے، ایران اور مشرق وسطیٰ کے بڑے حصے میں ہونے والی بم باری رک گئی ہے اور دو اہم طاقتیں مذاکرات کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ یہ جنگ بندی موجودہ تنازع کے مزید پائیدار اور مستقل حل کی جانب قدم ہو۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لوگ ان مذاکرات کو امید کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے گزشتہ 6 ہفتوں یا اس سے زیادہ عرصے سے جنگ کی تباہ کاریاں دیکھی ہیں، اس سے نہ صرف انسانی جانی نقصان ہوا بلکہ معاشی قیمت بھی چکانی پڑی ہے، جس کے اثرات پوری دنیا پر پڑے ہیں۔
سعودی عرب، چین اور دیگر ممالک کے درمیان پاکستان کو توازن برقرار رکھنے کے حوالے سے ایک سوال پر چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ میں ایران اور امریکی قیادت کا شکریہ ادا کروں گا جنہوں نے جنگ بندی اور مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا لیکن لیکن نہ صرف قیادت، نہ صرف پاکستان بلکہ چین، سعودی عرب، ترکیے، مصر، قطر اور دیگر خلیجی ممالک کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔
انہوں نے کہا کہ جنگ نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے اس لیے ہر کوئی مشترکہ اور اجتماعی کوششیں کر رہا ہے تاکہ اس جنگ بندی کے لیے اہم سفارتی گنجائش پیدا کی جا سکے اور آئندہ مذاکرات آگے بڑھائے جا سکیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ پیچیدہ معاملہ ہے، چیلنج ہے لیکن میرے خیال میں پچھلے 6 ہفتوں کے دوران ہم نے جو دیکھا ہے تو جنگ کوئی آپشن نہیں ہے۔
I think that the fact that these talks are taking place is the biggest achievement so far. It’s significant that the ceasefire is in effect. The bombing has stopped in Iran and most of the Middle East, and the two major partners are now negotiating - Chairman PPP @BBhuttoZardari… pic.twitter.com/fMv0nUSt6u
— PPP (@MediaCellPPP) April 11, 2026
انہوں نے کہا کہ اس تنازع کے خطرناک نتائج ہیں اور اگر انہوں نے مستقل امن کے لیے درمیانی راستہ نکالنے کا انتظام نہیں کیا تو مزید خطرناک نتائج ہوسکتے ہیں، اس لیے سب کی توجہ اس وقت موجودہ تنازع کے حل پر ہے۔
چئیرمین پی پی پی نے کہا کہ موجودہ تنازع کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرق وسطیٰ پر پڑے ہیں لیکن جس طرح انہوں نے متعدد خلیجی ممالک پر حملے کیے ہیں ان مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے لیکن میرے خیال یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب جنگ بندی مستقل ہو اور ہمارے پاس اس تنازع کا ایک حل ہو۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل