Sunday, April 12, 2026
 

ایران کا وفد اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کے بعد واپس روانہ

 



ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی سربراہی میں امریکا کے ساتھ اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کے لیے آنے والا وفد واپس روانہ ہوگیا۔ ایرانی وفد کو نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنش فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق، وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایئرپورٹ پر الوداع کیا۔ مذاکرات کے لیے اسلام آباد آنے والے ایرانی وفد میں مجلس شوریٰ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر شامل تھے۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز اسلام آبادمیں ایران اور امریکا کے درمیان 28 فروری کو ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والے جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات ہوئے، جس میں امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں جیرڈ کشنر اور اسٹیو ویٹکوف اور ایران کے محمد باقرقالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی پر مشتمل وفود نے شرکت کی۔ ایرانی وفد کے سربراہ باقر قالیباف نے مذاکرات کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بیان میں کہا کہ وقت آگیا ہے کہ امریکا سمجھے کہ وہ ہمارا اعتماد حاصل کرسکتا ہے یا نہیں جبکہ گزشتہ دو جنگوں کے باعث ایران کو مخالف فریق پر اعتماد نہیں ہے تاہم امریکا ہماری منطق اور اصولوں کو سمجھ چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں ایران نے مثبت اور مستقبل پر مبنی تجاویز پیش کی ہیں۔ دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ مذاکرات میں مختلف امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے تاہم 21 گھنٹوں سے زائد جاری رہنے والے مذاکرات میں کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا اور وہ واشنگٹن جا کر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مذاکرات کی تفصیلات سےآگاہ کریں گے۔ جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا نے مذاکرات کے دوران بھرپور لچک اور نیک نیتی کا مظاہرہ کیا اور ایران کے سامنے اپنی ریڈ لائنز بھی واضح کردی ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل