Loading
پشاور میں 24 گھنٹوں کے دوران دو پولیس اہلکاروں کو قبائلی سرحد کے قریب سے اغوا کے بعد قتل کیا گیا، جن کی لاشیں برآمد کرلی گئی ہیں۔
ایکسپریس نیو کو ذرائع نے بتایا کہ پشاور کے علاقے حسن خیل میں گاؤں کے راستے میں نامعلوم افراد نے پولیس اہلکار کو اغوا کیا، جس کی چند گھنٹوں بعد ان کی لاش مل گئی جبکہ اس سے قبل ہفتے کو بھی نواحی علاقے حسن خیل میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس جوان کو مبینہ طور پر اغوا کے بعد فائرنگ کر کے شہید کر دیا تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پولیس اہلکارں کو مبینہ طور پر دہشت گردوں نےشہید کیا ہے تاہم محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور پولیس ٹیموں نے کیس کی تفتیش شروع کردی ہے۔
پولیس اہلکاروں کے اغوا کے واقعے پر بتایا گیا کہ گزشتہ روز تھانہ حسن خیل کی حدود ایف آرپشاور میں نامعلوم افراد نے بزدلانہ کارروائی کرتے ہوئے پولیس کانسٹیبل مقتدر خان پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پرہی جام شہادت نوش کرگئے، واقعے کے بعد فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا،
بعد ازاں شہید مقتدر خان کی نمازجنازہ ملک سعد شہید پولیس لائنز میں ادا کی گئی، جس میں سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد، کمانڈر 102 بریگیڈ بریگیڈیئر مبشر، ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان، پاک فوج کے اعلیٰ حکام، ڈویژنل ایس پیز اور پولیس افسران سمیت جوانوں اور لواحقین نے شرکت کی۔
اس موقع پر پولیس کے چاک و چوبند دستے نے شہید کے جسدخاکی کو سلامی پیش کی، اعلیٰ حکام نے پھولوں کی چادریں چڑھائیں اور فاتحہ خوانی کی۔
سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد نے شہید کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقتدر خان جیسے بہادر سپوتوں کی قربانیاں ضائع نہیں جائیں گی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے۔
انہوں نے عزم دہرایا کہ اس گھناؤنے فعل میں ملوث عناصر کو بہت جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل