Loading
پاکستان میں تعینات ایرانی سفری رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات محض ایک ایونٹ نہیں بلکہ تمام فریقین کے مفاد کے لیے ایک مضبوط فریم ورک تیار کرنے کے لیے سفارتی عمل کی بنیاد ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں رضا امیری مقدم نے کہا کہ یہ مذاکرات کسی ایک وقتی ایونٹ کے بجائے ایک مسلسل سفارتی عمل کی حیثیت رکھتے ہیں، مذاکرات نے مستقبل میں پیش رفت کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کر دی ہے، جو باہمی اعتماد اور سنجیدہ سیاسی عزم کے ذریعے تمام فریقین کے مفادات کے لیے ایک پائیدار فریم ورک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ برادر ملک پاکستان اور خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مذاکرات کے انعقاد میں نیک نیتی اور مثبت کردار ادا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی حکومت، افواج، پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی انتھک کاوشوں کے باعث مذاکرات ایک پرامن، منظم اور محفوظ ماحول میں منعقد ہوئے جہاں دونوں فریقین کو یکساں سہولیات فراہم کی گئیں اور مہمانوں کے لیے باوقار ماحول یقینی بنایا گیا۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایرانی اعلیٰ سطح کے مذاکراتی وفد نے وقار، خوداعتمادی اور اللہ تعالیٰ پر کامل یقین کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لیا اور عوامی توقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی مفادات اور عوام کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اور باوقار انداز میں گفتگو کی۔
The Islamabad Talks is "not an event but a process."
The Islamabad Talks laid the foundation for a diplomatic process that, if trust and will are strengthened, can create a sustainable framework for the interests of all parties.
I would like to express my gratitude to the… pic.twitter.com/qzCb1xYzPh
— Reza Amiri Moghadam (@IranAmbPak) April 12, 2026
خیال رہے کہ اسلام آباد مذاکرات میں ایرانی وفد پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی سربراہی میں وزیرخارجہ عباس عراقچی اور دیگر پرمشتمل تھا، جنہوں نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں وفد کے ساتھ مذاکرات کیے تاہم حتمی معاہدہ نہیں ہوپایا۔
ایرانی وفد دو روزہ دورے کے بعد واپس ایرانی روانہ ہوگیا جبکہ امریکی وفد ان سے قبل امریکا واپس گیا تھا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل