Monday, April 13, 2026
 

پیکا قانون کی کہانی؛ صحافیوں اور شہریوں کے لیے کتنا خطرناک بن چکا ہے؟

 



پیکا قانون صحافیوں اور شہریوں کے لیے کتنا خطرناک بن چکا ہے، اس حوالے سے تازہ رپورٹ سامنے آئی ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے کہا ہے کہ 2016 میں منظور کیا جانے والا الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کا قانون (پیکا) انٹرنیٹ کو محفوظ بنانے کے وعدے کے ساتھ نافذ کیا گیا تھا، تاہم ایک دہائی بعد یہ قانون مختلف حکومتوں کے ادوار میں تبدیل ہو کر ایک کثیر جہتی ڈیجیٹل کنٹرول کے نظام کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ کمیشن کے مطابق 2017 میں مقامی صحافیوں کی ابتدائی گرفتاریوں سے اس قانون کے نفاذ کا آغاز ہوا، مگر وقت کے ساتھ اس کا دائرہ کار بدلتا گیا اور 2023 میں ڈیجیٹل دہشت گردی جیسے الزامات سامنے آئے، جن کے تحت ہدف جرائم پیشہ عناصر کے بجائے صحافیوں، وی لاگرز اور عام شہریوں کو بنایا گیا۔ ایچ آرسی پی کے مطابق 2026 تک آتے آتے یہ محض ایک قانون نہیں رہا بلکہ ایک مستقل ضابطہ جاتی فریم ورک بن چکا ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سائبر کرائم ونگ کی جگہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے لے لی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے قواعد و ضوابط کے نفاذ کے نئے نظام بھی متحرک ہو چکے ہیں، جس سے ڈیجیٹل منظرنامہ بنیادی طور پر تبدیل ہو گیا ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق اہم سنگ میل کے طور پر 2016 میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے پیکا قانون منظور کیا اور ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے اس پر عملدرآمد شروع کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ 2022 میں ’پبلک فگر‘ آرڈیننس کے ذریعے اختلاف رائے کو ناقابل ضمانت جرم بنانے کی کوشش کی گئی۔ مزید کہا گیا کہ 2024 میں ایک بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو تقریباً 10 ماہ تک بند رکھا گیا جبکہ اسی سال نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کا قیام عمل میں آیا۔ کمیشن کے مطابق 2025 اور 2026 کے دوران سیکشن 26 اے کے تحت ’جعلی خبروں‘ کو جرم قرار دیا گیا، جبکہ متعدد صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اس عرصے میں حکومتیں اور اہداف تبدیل ہوتے رہے، تاہم قانون کا دائرہ اختیار مسلسل وسیع ہوتا گیا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل