Loading
ہائیکورٹ نے بجلی بلوں میں سلیب سسٹم کے نفاذ کے خلاف دائر درخواست کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کر لیا۔
عدالت نے درخواست پر نیپرا سمیت دیگر فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ بتایا جائے سلیب سسٹم کس قانون کے تحت نافذ کیا گیا۔
اشبا کامران کی درخواست پر ابتدائی سماعت جسٹس خالد اسحاق نے کی۔ درخواست میں نیپرا سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ بجلی بلوں میں سلیب سسٹم کا نفاذ آئین اور قانون کے خلاف ہے۔ 200 یونٹس تک بجلی کے بلز پروٹیکٹڈ کیٹگری میں شامل ہوتے ہیں، تاہم سلیب سسٹم کے تحت بجلی کے بل دوگنا سے بھی زیادہ ہو جاتے ہیں۔
مؤقف میں کہا گیا کہ یہ دوگنا سے بھی زیادہ بل سزا کے طور پر 6 ماہ تک بھیجے جاتے ہیں۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ نیپرا ایک ریگولیٹری اتھارٹی ہے نہ کہ سزا دینے والا ادارہ، جبکہ سلیب سسٹم نیپرا ایکٹ کی متعدد دفعات سے بھی متصادم ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ بجلی بلوں میں سلیب سسٹم کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا جائے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل