Loading
صوبائی اینٹی کرپشن عدالت نے کے ایم سی فنڈز میں 80 کروڑ روپے کی خورد برد، جعلسازی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مقدمے میں سابق کے ایم سی افسران پر فردِ جرم عائد کردی جب کہ ملزمان کے صحت جرم سے انکار پر تفتیشی افسر اور گواہوں کو طلب کرلیا گیا۔
ملزمان میں کے ایم سی کے سابق ڈی جی ٹیکنیکل سروسز شبیح الحسنین، سابق ڈائریکٹر پارکس ڈی ایم سی شرقی توقیر عباس، سابق ڈائریکٹر فنانس و پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ وسطی نازش رضا، سپریٹنڈنٹ انجینئر کے ایم سی صمد جلبانی و دیگر شامل ہیں۔
عدالت نے تمام ملزمان اور گواہوں کو 19 مئی کو پیش ہونے کا حکم دیدیا۔
محکمہ اینٹی کرپشن کے مطابق ملزمان کیخلاف ضیاء السلام کی جانب سے شکایت درج کرائی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ شہید ملت روڈ، میوہ شاہ قبرستان روڈ، سی پی او کے قریب ممتاز روڈ اور دیگر علاقوں میں ترقیاتی کاموں کے نام پر کرپشن کی گئی۔
کے ایم سی کے ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز میں مبینہ طور پر 80 کروڑ روپے سے زائد کی خورد برد کی گئی۔ ملزمان نے ترقیاتی کاموں کے جعلی ٹینڈر جاری کیے۔ ملزمان کی جانب سے سیپرا رولز کی بھی خلاف ورزی کی گئی۔
علاوہ ازیں ملزمان نے پی سی ون اور آفر ریٹ میں غیر قانونی ترامیم کیں اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے من پسند ٹھیکیداروں کو زیادہ ریٹ پر ٹھیکے دیے۔ ان اقدامات سے سڑکوں کی مرمت اور تعمیراتی منصوبوں میں بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل