Loading
پاکستان کو درپیش حالیہ توانائی بحران نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ ملک کا حد سے زیادہ انحصار درآمدی تیل پر ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے حکومت شمسی توانائی (Solar)، ہوا (Wind Energy) اور ہائیڈرو پاور جیسے سستے اور مقامی ذرائع کو ترجیح دے رہی ہے۔
پاکستان میں توانائی کا بحران کسی اچانک آنے والے طوفان کی طرح نہیں ہے بلکہ آہستہ آہستہ پھیلنے والی دیمک ہے جو معیشت کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہی ہے، کارخانے بند ہوئے چلے جا رہے ہیں، مزدور بے روزگار ہوتے چلے جا رہے ہیں اور گھروں میں چولہے ٹھنڈے ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ قدرت نے پاکستان کو ایک ایسا انمول، لامحدود خزانہ دیا ہے وہ سورج ہے جوکہ بلامعاوضہ اپنے خزانے لٹائے چلا جا رہا ہے لیکن ہم نے اسے نظرانداز کر رکھا ہے، لیکن اب آہستہ آہستہ حالات بدل رہے ہیں، گھروں کی چھتوں پر سولر پینلز اگ رہے ہیں۔
لوگ اپنی بجلی خود پیدا کر رہے ہیں، اب ’’اپنی چھت اپنی روشنی‘‘ کا ایک نیا محاورہ سر پر ہی نہیں بول رہا بلکہ یہاں بھی تھوڑی تبدیلی کے ساتھ چھت پر چڑھ کر بول رہا ہے۔ آج کی دنیا میں جنگ تجارت، توانائی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں لڑی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ 4 برسوں میں ملک میں شمسی توانائی کا حصہ 5 فی صد سے بڑھ کر 25 فی صد سے زائد ہو چکا ہے جو بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے گھریلو سطح پر سولر سسٹمز کے فروغ اور صنعتی شعبے میں متبادل توانائی کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ پاکستان کے لیے سولر انرجی اب ترجیح یا انتخاب کا معاملہ نہیں رہا بلکہ مجبوری بن چکا ہے کہ وہ سولر ٹیکنالوجی کو اپنائے۔
اگر تیل پر ہی انحصار برقرار رکھا گیا تو اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے مجموعی درآمدی بل کا تقریباً ایک تہائی حصہ پٹرولیم مصنوعات پر مشتمل ہے جو بیرونی ادائیگیوں کے توازن پر سب سے بڑا دباؤ ہے۔حکومت نے اس بحران سے نکلنے کے لیے متبادل توانائی ذرائع کو فروغ دینے کی پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔
اس سلسلے میں گھریلو اور کمرشل سطح پر سولر پینلز کی تنصیب کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ نیٹ میٹرنگ پالیسی کے ذریعے صارفین کو اضافی بجلی بیچنے کی سہولت اور سرکاری عمارتوں کو سولر پر منتقل کرنے کے منصوبے، سندھ کے ساحلی علاقوں خصوصاً گھارو، کیٹی بندر کوریڈور میں ونڈ پاور کے منصوبے، بڑے ڈیمز اور چھوٹے ہائیڈرو منصوبے پر توجہ ہے۔ اس سلسلے میں حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دے رہی ہے۔ قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیے ٹیکس میں رعایت اور دیگر مراعات زیر غور ہیں، لیکن اب بھی کئی رکاوٹوں کی نشان دہی کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں توانائی بحران محض بجلی کی کمی نہیں بلکہ پالیسیوں کی کمزوری اور ترجیحات کی شکست کا آئینہ ہے۔
دنیا کے کئی ملکوں نے تیل کی غلامی سے آزادی حاصل کر لی ہے۔ انھوں نے سورج، ہوا اور پانی کو اپنا ساتھی بنا لیا ہے۔ پاکستان میں کئی عشرے قبل سے ہی ایسے محسنوں نے ان دنوں کا ادراک کر لیا تھا جب وہ چین سے سولر ٹیکنالوجی لے کر آئے اور قوم کو سورج سے نظریں ملانے کا ہنر سکھانے لگے کیونکہ آج دنیا مان گئی ہے کہ جو قومیں سورج سے نظریں ملاتی ہیں تو تیل کی زنجیریں خودبخود ٹوٹ جاتی ہیں۔
یہ 1969 کی ایک رات تھی جب Apollo II Moon Landing کے ذریعے Neil Armstrong نے چاند کی سرزمین پر قدم رکھا تھا۔ وہ چھلانگ صرف چاند تک نہیں بلکہ خوابوں، ہمت، سائنس کی فتح کا اعلان تھا۔ اپالو صرف ایک خلائی مشن نہیں تھا بلکہ ایک سوچ تھی، ناممکن کو ممکن بنانے کی۔ آج وہ لمحہ آ چکا ہے جب ’’اپالو‘‘ کا استعارہ دوبارہ زندہ ہو چکا ہے۔
آج ضرورت ہے ایک نئے ’’اپالو‘‘ کی۔ ’’اپالو سولر‘‘ کی۔ یہ اپالو چاند پر نہیں اترے گا بلکہ چاند جیسے گھر کے آنگن کی چھت پر اترے گا۔ ہر چھت ایک ’’لانچ پیڈ‘‘ ہوگی۔ ہر اپالو سوپر اسٹیشن، کیونکہ قدرت نے پاکستان کو سال میں 300 سے بھی زائد دھوپ والے دن دیے ہیں۔ یہ وہ خزانہ ہے جو نہ ختم نہ پرانا ہوتا ہے۔ نہ خراب ہوتا ہے اور نہ ہی مہنگا ہوتا ہے۔ سب کچھ فری ہی فری ہے۔ آج دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اسی سورج کی روشنی کو اپنی معیشت کی بنیاد بنا رہے ہیں اور انھوں نے ثابت کر دیا ہے کہ روشنی خریدی نہیں جاتی حاصل کی جاتی ہے۔
اگر حکومت اور سولر پینلز کے پرانے تجربہ کار مخلص تاجر مل کر کام کریں تو ہر گھر پر سولر پینلز کو نصب کیا جا سکتا ہے۔ بجلی کی قیمت آدھی سے بھی کم ہو کر رہ جائے گی اور معیشت کو ایک نئی زندگی مل سکتی ہے جیسے ’’اپالو‘‘ نے انسان کو چاند تک پہنچایا ویسے ہی وقت آ گیا ہے کہ صرف زبانی جمع خرچ سے کام نہیں لیا جائے بلکہ اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ اب اپالو سولر انقلاب کے ذریعے سورج کی روشنی کو چھت پر اتارنے کا وقت آ چکا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل