Loading
پاکستان کسٹمز ایکسپورٹ کلکٹریٹ نے نمک کے برآمدی کنسائمنٹس کی مثالی پیکنگ کے ساتھ بلارکاوٹ ایکسپورٹ کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں.
یہ احکامات کلکٹر کسٹمز ایکسپورٹ رضوان محمود کے ساتھ سالٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے بانیچیئرمین اسماعیل ستار کی قیادت میں ایسوسی ایشن کیچیئرپرسن صائمہ اختر ودیگر عہدیداروں پر مشتمل اجلاس میں جاری کیے گئے.
سالٹ ایکسپورٹرز اور کسٹمز حکام نے عالمی مارکیٹ میں سالٹ انڈسٹری کی ساکھ کو متاثر کرنے والے دیرینہ مسائل کے حل کیلیے ٹھوس اقدامات پر اتفاق کرتے ہوئے بندرگاہ پر کنٹینرز کی نامناسب ری سیلنگ کے باعث بیرون ملک پہنچنے پر پیکنگ کے خراب ہونے کے مسئلے کو فوری طور پر حل کرنے، برآمدات کو عمومی تجارتی کوڈ کے تحت ظاہر کرنے کی روش ختم کرکے غیر ضروری اور بار بار ایگزامینیشن روکنے کی ہدایت کی گئی.
اجلاس کے دوران سالٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کی چیئرپرسن صائمہ اختر، سینئر وائس چیئرمین عاصم یعقوب پراچہ اور رکن زوہیب اختر نے کسٹمز حکام کو بتایا کہ بیرونِ ملک خریداروں کی جانب سے ایسی کنسائنمنٹس پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے جو خراب پیکنگ کے ساتھ انہیں موصول ہورہی ہیں جس کی بنیادی وجہ بندرگاہ پر کسٹمز جانچ کے بعد ناقص ری سیلنگ ہے.
کسٹمز حکام نے اس مسئلے کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی تصدیق کی اور نشاندہی کی کہ غلط ایچ ایس کوڈ کے تحت برآمدی ڈیکلریشن جمع کرانے کی وجہ سے بھی بار بار انسپیکشن کرنا پڑتا ہے جو تاخیر اور اضافی پیچیدگیوں کا باعث بن رہا ہے۔
اجلاس میں ڈپٹی کلکٹر عثمان حمید بٹ اور اسسٹنٹ کلکٹر عاصمہ سکندر نے واضح کیا کہ غلط ایچ ایس کوڈ کا اندراج خود ہی بار بار انسپیکشن کی بنیادی وجہ ہے.
انھوں نے بتایا کہ بہت سے برآمد کنندگان مخصوص ذیلی کوڈز استعمال کرنے کی بجائے عمومی خانے پر انحصار کرتے ہیں حالانکہ ٹیبل سالٹ کیلیے 2501.00.10، راک سالٹ کیلیے 2501.00.20 اور صرف ان ہی اقسام کے لیے 2501.00.90 مخصوص ایچ ایس کوڈز ہیں ہے جو ان دونوں زمروں میں نہ آتی ہوں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل