Loading
تہران: ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ کسی بھی معاہدے کو اس وقت تک قبول نہیں کرے گا جب تک اس کے ٹھوس اور عملی نتائج سامنے نہ آجائیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق محمد باقر قالیباف نے یہ بات پارلیمنٹ کے ایک ورچوئل اجلاس سے خطاب کے دوران کہی۔ اس اجلاس میں انہوں نے دوبارہ اسپیکر منتخب ہونے کے بعد حلف بھی اٹھایا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو مخالف فریق کے وعدوں پر اعتماد نہیں ہے، اس لیے کسی بھی معاہدے میں پیش رفت کا واحد معیار ’حقیقی اور قابلِ تصدیق نتائج‘ ہوں گے۔
قالیباف کے مطابق ایران اپنے عوام کے حقوق کے تحفظ کو ہر ممکن معاہدے میں بنیادی شرط کے طور پر رکھتا ہے، اور جب تک ان حقوق کی ضمانت نہیں ملتی، تہران اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دشمن کے بیانات اور وعدوں پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا اس لیے ایران صرف اسی صورت میں کسی معاہدے کا حصہ بنے گا جب اس کے عملی نتائج واضح ہوں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل