Loading
پاک فوج کے سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورۂ ایران نے تاریخی اہمیت اختیار کرلی ہے جس سے نہ صرف آبنائے ہرمز کھلنے جیسی پیشرفت ہوئی بلکہ اسرائیل اور لبنان جنگ بھی تھم چکی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے آبنائے ہرمز کی تازہ ترین صورت حال اور امریکا کے ساتھ جنگ بندی مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کیا ہے۔
بیان میں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ تہران پہنچے اور ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔
بیان میں پاکستان کے ثالث کے کردار کو سراہتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکا کی نئی تجاویز ایرانی قیادت کو پیش کی ہیں۔ جس کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور جلد حتمی جواب دیا جائے گا۔
سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے جنگ میں کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو اپنے مطالبات اس حقیقت کے مطابق تبدیل کرنے چاہئیں کہ فاتح ایران رہا ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران نے عارضی جنگ بندی اس شرط پر قبول کی تھی کہ سیزفائر لبنان سمیت تمام محاذوں پر ہوگا لیکن اسرائیل نے پہلے ہی روز لبنان اور حزب اللہ پر حملے کرکے خلاف ورزی کی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جب ایران نے مکمل جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالا تو اسرائیل نے لبنان میں جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی۔
ایرانی قومی سلامتی کونسل نے کہا کہ اگر تمام محاذوں پر جنگ بندی کی پابندی ہو تو آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر صرف تجارتی جہازوں کے لیے کھلا رکھنے پر تیار ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ تاہم یہ اجازت بھی ایران کی نگرانی، اس کے مقرر کردہ راستے اور صرف غیر فوجی جہازوں تک محدود ہوگی اور جنگ کے مکمل خاتمے تک آبنائے ہرمز میں جہازرانی کی نگرانی کی جائے گی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمے سے دشمن ممالک کے فوجی جہازوں کو گزرنے نہیں دیا جائے گا۔ امریکا کے خطے میں موجود فوجی اڈوں کی زیادہ تر سپلائی آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے اور یہ صورتحال ایران اور خلیج فارس کے لیے سکیورٹی خطرہ سمجھی جاتی ہے۔
ایرانی قومی سلامتی کونسل نے کہا کہ امریکا نے یہ جنگ خود شروع کی لیکن اپنی ناکامی اور ایرانی عوام و مسلح افواج کی مزاحمت کے بعد جنگ کے دسویں دن سے جنگ بندی اور مذاکرات کی درخواستیں بھیجنے لگا تھا۔
بیان میں عوام اور مسلح افواج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم اللہ پر بھروسے اور عوامی حمایت کے ساتھ سیاسی میدان میں داخل ہوئی ہے تاکہ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو مضبوط بنایا جا سکے۔
ایران کی قومی سلامتی کونسل نے کہا کہ ایرانی وفد کسی قسم کی رعایت، پسپائی یا نرمی اختیار نہیں کرے گا اور پوری قوت کے ساتھ ایران کے مفادات، قومی عزت اور جنگ میں دی گئی قربانیوں کا دفاع کرے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل