Sunday, April 19, 2026
 

پاکستان میں بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے کے لیے انقلابی منصوبہ کا آغاز

 



گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے کے لیے انقلابی منصوبہ کا آغاز کر دیا گیا۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی بھی گرین پاکستان منصوبے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ سی ای او ییلو گرین فارم غلام مصطفی خاندان سمیت پاکستان منتقل ہو کر جدید زراعت کے فروغ میں عملی کردار ادا کر رہے ہیں۔ غلام مصطفیٰ کے مطابق انہوں نے طویل المدتی زرعی منصوبے کو منفرد اور پائیدار موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے مواقع ذاتی زمین میں بھی کم ہی دستیاب ہوتے ہیں۔ مقامی کسان محمد عبداللہ لیاقت نے کہا کہ جی پی آئی کے تحت 17 ہزار ایکڑ رقبہ حاصل کر کے زراعت کو وسعت دی گئی اور مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بھی فراہم کیے گئے۔ جی پی آئی نے جدید زراعت متعارف کروائی اور ایگری مالز کے قیام کے ذریعے بیج، کھاد اور زرعی ادویات ایک ہی جگہ دستیاب ہیں۔ کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر کے مطابق جی پی آئی کا یہ منصوبہ بڑھتی آبادی کے پیشِ نظر ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔ خالد محمود کھوکھر کا کہنا تھا کہ ڈریپ ایریگیشن، پیوٹ اور اسپرنکلر سسٹمز کے ذریعے پانی کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ منصوبے کے تحت جدید زرعی مشینری اور طریقوں کو فروغ دے کر روایتی کاشتکاروں کو جدید زراعت کی طرف راغب کیا جا رہا ہے۔ گرین پاکستان انیشیٹو زرعی خود کفالت،پائیدار ترقی اور تحفظِ خوراک کے حصول میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل