Tuesday, April 21, 2026
 

بچوں سے دشمنی نہ کریں، اسکرین ٹائم کم کیجیے

 



جدید دور میں موبائل اور اسکرینز جہاں بڑوں کی زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہیں، وہیں اب ننھے بچوں کی روزمرہ عادات میں بھی تیزی سے شامل ہو رہی ہیں۔ ایک نئی تحقیق نے اس بڑھتے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کم عمری میں زیادہ اسکرین ٹائم بچوں کی صحت اور نشوونما کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ برطانیہ کے تعلیمی ادارے یونیورسٹی کالج لندن کی تحقیق کے مطابق تقریباً چار میں سے تین ایسے بچے جن کی عمر صرف 9 ماہ ہے، روزانہ کسی نہ کسی شکل میں اسکرین استعمال کر رہے ہیں۔ حیران کن طور پر کچھ بچے روزانہ تین گھنٹے سے زائد وقت موبائل یا دیگر اسکرینز کے سامنے گزار رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عمر میں اسکرین کا زیادہ استعمال بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما کو متاثر کر سکتا ہے۔ خاص طور پر بولنے میں تاخیر، توجہ کی کمی اور سماجی میل جول میں کمی جیسے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ وہ بچے جو بہن بھائیوں کے ساتھ یا دونوں والدین کی موجودگی میں رہتے ہیں، ان میں اسکرین کا استعمال نسبتاً کم ہوتا ہے۔ عالمی سطح پر بھی اس معاملے پر واضح ہدایات موجود ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دو سال سے کم عمر بچوں کو اسکرین سے مکمل طور پر دور رکھنا چاہیے، جبکہ دو سے چار سال کے بچوں کے لیے اسکرین ٹائم ایک گھنٹے سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ تاہم عملی طور پر صورتحال اس کے برعکس ہے اور دنیا بھر میں بہت کم بچے ان ہدایات پر عمل کرتے نظر آتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف اسکرین کے دورانیے کا نہیں بلکہ اس کے استعمال کے طریقے کا بھی ہے۔ اگر اسکرین بچوں کی بنیادی سرگرمیوں جیسے کھیلنا، بات چیت کرنا اور کتاب پڑھنا متاثر کرے تو یہ مزید نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ اسی لیے والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ساتھ مل کر اسکرین استعمال کریں اور اسے سیکھنے کا ذریعہ بنائیں، نہ کہ متبادل زندگی۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ضرورت سے زیادہ اسکرین ٹائم بچوں میں ذہنی اور نفسیاتی مسائل کو جنم دے سکتا ہے، جن میں بولنے میں تاخیر اور ’ورچوئل آٹزم‘ جیسے خدشات بھی شامل ہیں۔ اس لیے والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ ابتدا ہی سے بچوں کی عادات پر نظر رکھیں اور اسکرین کے استعمال کو محدود کریں تاکہ ان کی صحت مند نشوونما یقینی بنائی جا سکے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل